اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 226 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 226

۲۲۶ روحانی خزائن جلد۴ الحق مباحثہ دیلی (۹۲) بالمشافہ دریافت کر لیا جاوے۔ احقر اور محب ممدوح آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور محب ممدوح نے اس بارے میں بطور خود خواہ کن ہی الفاظ سے ہو جناب سے استفسار کیا۔ جناب نے احقر کے سامنے در جواب یہ مضمون ارشاد فرمایا کہ میں نے دجال کذاب نہیں کہا۔ مرزا صاحب کو اس امر میں خطا پر جانتا ہوں خواہ خطا الہامی ہو یا خطاء اجتہادی یا خطاء عمدی ۔ الفاظ کچھ ہوں مطلب یہی تھا۔ ان واقعات کا افشاء احقر نے آج تک نہیں کیا تھا لیکن جب خدام جناب احقر کو بہت تاکید سے کسی مصلحت کے سبب مباحثہ پر مجبور فرماتے ہیں تب مجبور ہو کر یہ اسرار مختفیہ اظہاراً للصواب ظاہر کئے جاتے ہیں پھر مع هذا ہیچمدان کو مباحثہ سے احقاق حق اور اظہار صواب کی امید ہو تو کیونکر ہو ۔ اس کی کیا سبیل ہے وہ ارشاد ہو ۔ بعد اس کے تعمیل ارشاد کے لئے حاضر ہوں۔ گزارش سوم عنایت نامہ میں الہام کو جو جناب نے ادلہ شرعیہ سے خارج فرمایا ہے یہ مسئلہ بھی درمیان فحول علماء کے طویل الذیل ہے اور میچید ان اس کی بحث سے اعلام الناس حصہ دوم میں بطور استدلال علوم رسمیہ کے اپنے زعم میں فارغ ہو چکا ہے۔ پس یہ بھی ضرور ہے کہ جناب اس پر قبولا یار دا نظر فرمالیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ میچمدان اعلام الناس میں یہ سب ابحاث درج کر کر فارغ ہو چکا ہے۔ بلکہ حضرت اقدس مرزا صاحب سلمہ ازالہ اوہام میں تمام ابحاث متعلقہ مسئلہ متنازعہ فیہا کو درج فرما چکے ہیں اور جملہ مراتب مندرجہ عنایت نامہ ( کہ کبھی مدعی کو منصب مجیب کا دیدینا چاہئے اور کبھی مجیب کو منصب مدعی کا ) طے فرماچکے ہیں پس جو جو امور کہ جناب کی رائے کے خلاف ہیں خواہ ازالہ اوہام میں ہوں یا اعلام الناس میں اولا اظهارا للصواب و احقاقا للحق بطور مناظرہ حقہ کے ان میں بھی نظر فرما لیجئے۔ خصوصاً ایسی حالت میں کہ جناب نے اثناء مباحثہ دہلی میں مکر رسہ کر ر یہ وعدہ بھی فرمایا ہے کہ ازالہ کا رد میں خوب بسط سے کروں گا۔ پس اول ان سب رسائل کا جواب ہو جانا بھی ضرور ہے اس کے بعد اگر احقر نے آپ کے جوابات کو تسلیم کر لیا۔ فھو المراد ورنہ میدان کی نظر اظهارا للصواب بشرائط مفیدہ ہو سکتی ہے کیونکہ اس جانب سے تو اپنے زعم میں صحیح ہو یا خلاف پورا اتمام حجت کر دیا گیا ہے۔ گزارش چهارم یہ جو ارشاد فرمایا گیا کہ مرزا صاحب کو الہام میں کیسا ہی ید طولی حاصل ہولیکن جناب کے زعم