اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 225
۲۲۵ روحانی خزائن جلد۴ الحق مباحثہ دہلی مضمون اقرار کیا کہ چونکہ یہ جلسہ خالص اللہ ہے اس واسطے میں عہد کرتا ہوں کہ جو امر احقر کے فہم ناقص (۹۵) میں صواب ہو اور نفس الامر میں غلط تو اللہ کے واسطے آپ اس کو ضر ور رڈ فرماویں گے اور میں اس کو قبول کروں گا۔ علی ھذا القیاس جناب والا نے بھی احقر کے اس اقرار کے بعد خود اللہ تعالیٰ کو گواہ قرار دے کر یہ مضمون ارشاد فرمایا کہ میں بھی ایسا ہی کروں گا۔ اس میں سرمو تجاوز نہ ہوگا۔ مطلب یہی تھا الفاظ گواور ہوں ۔ بعد اس عہد و پیمان کے احقر نے مسودہ اعلام الناس حصہ اول جناب والا کو سنانا شروع کیا۔ جس جگہ جناب نے اس میں بطور تائید کے کوئی مضمون ارشاد فرمایا اس کو بھی میں نے درج کر لیا۔ اور مجھے کو خوب یاد ہے کہ کسی مضمون پر آپ نے جرح نہیں کیا بلکہ تائیداً کچھ ارشاد فرمایا۔ شائد ایک جگہ جرح کیا تھا اس کو میں نے کاٹ دیا تھا اور اس پر بڑی دلیل ایک یہ ہے کہ حصہ اول اعلام کو شائع ہوئے عرصہ تخمینا سات آٹھ ماہ کا ہوا ہوگا اور جناب کے پاس بھی نسخہ مطبوعہ اس کا پہنچ گیا ہے جو مضمون تائید ا آپ کی طرف سے اس میں لکھا گیا ہے اس کی تکذیب آپ نے اب تک شائع نہیں فرمائی اگر آپ مقام توقف میں نہ ہوتے تو اب تک ضرور اس کی تکذیب کا اشتہار دے دیتے۔ الحاصل تین جلسے متفرق ہو چکے تھے جو عوام نے جناب پر اتہام اور الزام لگانے شروع کئے پھر جلسہ خلوت کا نہ ہوا ؎ آں قدح بشکست و آں ساقی نماند۔ پس جب کہ حصہ اول میں تخمینا دو ایک ورق سنانے سے باقی رہ گئے ہیں یا شاذ و نادر کوئی ایک آدھ مضمون بھی رہ گیا ہو جو بر وقت نظر ثانی کے درج کیا گیا ہو ۔ غرض کہ حصہ اول آپ کا سنا ہوا ہے۔ وللا كثـر حـكـم الـکل پھر مولا نا میرا کیا قصور ہے۔ مثل مشہور ہے کہ خود کردہ را علاجے نیست۔ ان سب واقعات سے مجھ کو پوری جرات ہو گئی تب حصہ اول کو احقر نے حق سمجھ کر شائع کر دیا پھر اگر تدارک مافات کرنا ہے تو حصہ دوم بھی شائع ہو چکا ہے جس کو جناب نے ابھی شاید مطالعہ نہیں فرمایا ہوگا اور مدت ہوئی کہ حصہ اول تو حسب الطلب خدمت اقدس میں حاضر کیا گیا ہے جس جس جگہ دونوں حصوں میں جناب کو کلام ہو جواب وردتحریر فرمائیے انشاء اللہ تعالی اگر حق ہوگا تو قبول کرلوں گا اور بڑا باعث حصہ دوم کی اشاعت کا یہ بھی ہوا کہ ایک روز اثنائے راہ میں جناب نے چپکے سے یہ مضمون فرمایا کہ حیات مسیح فی الحقیقت ثابت نہیں اگر چہ خلاف مذہب جمہور ہے مگر اس کو کسی سے تم کہومت۔ مطلب یہی تھا الفاظ گو اور ہوں۔ جب چاروں طرف سے آپ پر عوام الزام لگانے لگے تب آپ نے وعظ میں حضرت اقدس مرزا صاحب کو دجال کذاب تعریضاً یا کنا یا فرمایا۔ جب بھوپال میں اس وعظ کی خبر مشہور ہوئی تو ایک روز میرے ایک محبت مکرم احقر سے اثنائے راہ محلہ نظر سنج میں فرمانے لگے کہ مولوی محمد بشیر صاحب تو حضرت مرزا صاحب کو دجال کذاب کہتے ہیں میں نے عرض کیا کہ آج کل کی روایات کا کیا اعتبار ہے مولوی صاحب سے