اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 222
روحانی خزائن جلد۴ ۲۲۲ الحق مباحثه دیلی اور یہ ہجر ان بھی محض دین کیلئے ہے نہ کسی غرض دنیوی سے اور اس مرض ہجران کا علاج میرے نزدیک کوئی نہیں ہے۔ سوا اس کے کہ میرے اور آپ کے درمیان میں مباحثہ تحریر حیات و وفات مسیح علیہ السلام میں محض اظهارا للصواب واقع ہو جاوے کیونکہ میں بچے دل سے آپ سے کہتا ہوں کہ اگر وفات میرے نزدیک ثابت ہو جاوے گی تو میں بے تامل اپنے قول سے رجوع کرلوں گا۔ واللہ على ما اقول و کیل اور آپ کے ساتھ بھی مجھ کو حسن ظن یہی ہے۔ پس امید قوی ہے کہ بعد مباحثہ کے سبب مرض انشاء اللہ تعالیٰ زائل ہو جائے گا۔ رہے لوازم بشریت وظهور فساد فی البر والبحر سواگر میں اور آپ تہذیب عقلی و نقلی کا التزام کر لیں تو ان کے مفاسد وشرور سے بچنا آسان امر ہے اور طریقہ مناظرہ مستحسن یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہم میں سے مدعی بنے اور دوسرا مجیب اور مدعی کی تین تحریریں ہوں نہ کم نہ زیادہ اور مجیب کی دو تحریریں ہوں نہ کم نہ زیادہ۔ اس کے بعد عکس الامر ہو یعنی جو مجیب تھا وہ مدعی بنے اور مدعی مجیب اور یہاں بھی مدعی کی تین تحریر میں ہوں نہ کم نہ زیادہ۔ اور مجیب کی دو تحریریں ہوں نہ کم نہ زیادہ۔ اس طریقہ میں فائدہ یہ ہے کہ بحث اس امر کی اٹھ جائے گی کہ دراصل کون مدعی ہے اور کون مجیب اور ہر ایک کو اپنے دعوے کی دلیل بیان کرنے اور مخالف کی دلیل کے رد کرنے کا علی سبیل المساوات خوب موقع ملے گا۔ اور پرچے بھی دونوں کے مساوی العدد ہو جائیں گے ۔ خاکسار کی جانب سے آپ کو اختیار ہے چاہے پہلے مدعی بننے چاہے مجیب۔ امید کہ جواب رقعہ طذا سے جلد اور ضرور مشرف فرمائے و السلام خير الختام مورخہ ۷ ربیع الثانی ۱۳۰۹ھ محمد بشیر عفی عنہ مولوی سید محمد احسن صاحب بسم اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم مبسملا محمدلًا مصليا مسلمًا۔ مخدوم ومکرم جناب مولوی محمد بشیر صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ نامہ نامی عزثانی نے مذاق و چاشنی قند مکرر عطا فرما کر سرفراز و ممتاز فرمایا اور درخواست مکرر مباحثہ کو دیکھ کر حیران ہوا کہ مولانا صاحب تو معرکۃ العلماء میں دہلی سے بقول خود فتح عظیم حاصل کر کے تشریف لائے ہیں اور