اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 220
۲۲۰ الحق مباحثہ دہلی روحانی خزائن جلدم اور صحابی بھی پیش کر دیا۔ آپ اگر بچے ہوں تو اسی کتاب اصح الکتب سے کوئی حدیث اس پایہ کی پیش کریں جس سے حضرت مسیح کی زندگی جسمانی ثابت ہوتی ہو لیکن ایسا نہ کریں کہ آیت لیؤمنن کی طرح کوئی زوالوجوہ اور محجوب المفہوم حدیث پیش کر دیں آپ جانتے ہیں کہ آیت لیؤ مسنن کے متعلق چند روز کسی قدر ہم دونوں کا وقت ضائع ہوا۔ اور آخر آپ کا دعویٰ قـطـعـيـة الــدلالت صریح باطل نکلا اور آپ نے جن پانچ دلیلوں پر حصر کیا تھاوہ هباء منثورا کی طرح نابود ہو گئیں ۔ حضرت آپ ناراض نہ ہوں ۔ اگر پہلے سے آپ سوچ لیتے تو میرا عزیز وقت نا حق آپ کے ساتھ ضائع نہ ہوتا۔ اب جب کہ آپ کے ان اول درجہ کے دلائل کی جن کو آپ نے تمام ذخیرہ سے چن کر پیش کیا تھا۔ آخر میں یہ کیفیت نکلی تو میں کیونکر اعتبار کروں کہ آپ کے دوسرے دلائل میں کچھ جان ہوگی۔ اور آج جیسا کہ آپ کی طرف سے تین پرچے لکھے جاچکے ہیں میری طرف سے بھی تین پر چے ہو گئے۔ اب یہ چھ پرچے ہم دونوں کی طرف سے بجنسہ چھپ جانے چاہئیں پبلک خود فیصلہ کرلے گی کہ میں نے آپ کے دلائل پیش کردہ کو توڑ دیا ہے یا نہیں۔ اور آپ کی پیش کردہ آیت کیا در حقیقت قطعية الدلالت ہے یاڈ والوجوہ بلکہ آپ کے طور پر معنے کرنے سے قابل اعتراض ٹھہرتی ہے یا نہیں ۔ چونکہ مساوی طور پر ہم دونوں کے پرچے تحریر ہو چکے ہیں۔ تین آپ کی طرف سے اور تین میری طرف سے۔اس لئے یہی پر چے بلا کم و بیش چھپ جائیں گے اور ہم دونوں میں سے کسی کو اختیار نہ ہوگا کہ غائبانہ طور پر کچھ اور زیادہ یا کم کرے۔ یہ پھر یادر ہے کہ تین پر چوں پر طبعی طور پر فریقین کے بیانات ختم ہو گئے ہیں اور اس مضمون کے شائع ہونے کے بعد جب پبلک کی طرف سے منصفانہ رائیں شائع ہوں گی اور ثالثوں کے ذریعہ سے صحیح رائے جو حق کی مؤید ہو پیدا ہو جائے گی۔ تو اس تصفیہ کیلئے آپ تحریری طور پر دوسرے امور میں بھی بحث کر سکتے ہیں۔ لیکن اس تحریری بحث کیلئے میرا اور آپ کا دہلی میں مقیم رہنا ضروری نہیں۔ جب کہ تحریری بحث ہے تو دور رہ کر بھی ہو سکتی ہے۔ میں مسافر ہوں اب مجھے زیادہ اقامت کی گنجائش نہیں ۔ ملاحظہ: - اس مباحثہ سے متعلق مولوی محمد بشیر صاحب اور مولوی سید محمد احسن صاحب کے مابین جو مراسلت ہوئی اور الحق عید طبع شدہ ہے ذیل میں اس غرض سے شائع کی جاتی ہے کہ تا اس زمانہ کے مولویوں کی طرز مناظرہ اور ان کی علوم رسمیہ سے وابستہ علم قرآن مجید سے بیگانگی پوری طرح آشکارا ہو جائے ۔ (شمس)