اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 212 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 212

روحانی خزائن جلدم ۲۱۲ الحق مباحثہ دہلی ۸۲ کی ہی طرز پر یہ معنے کرتا ہوں کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس زمانہ کے سب موجودہ اہل کتاب اپنی موت سے پہلے ہمارے نبی کریم مسلم پر ایمان لے آئیں گے۔ بھائیو برائے خدا ذرہ نظر ڈال کر دیکھو کہ کیا خالص استقبال میری تاویل اور مولوی صاحب کی تاویل میں برابر درجہ کا ہے یا ابھی فرق رہا ہوا ہے۔ اب بھائیو انصافا د یکھو کہ ان معنوں میں یہ نسبت مولوی صاحب کے معنوں کے کس قدر خوبیاں جمع ہیں۔ وہ اعتراض جو مولوی صاحب کی طرز پر ضمیر بہ کے تعین مرجع میں ہوتا تھا۔ وہ اس جگہ نہیں ہوسکتا۔ قراءت شازہ اس تاویل کی مؤید ہے۔ اور بایں ہمہ خالص استقبال موجود ہے۔ اب اے حاضرین مبارک ۔ مولوی صاحب کے دعوئی قطعیت کا بھانڈا پھوٹ گیا مگر تعصب اور طرف داری سے خالی ہو کر غور کرنا ۔ مولوی صاحب نے اس بحث حیات مسیح کا حصر پانچ دلیلوں پر کیا تھا۔ چار دلیلوں کو تو انہوں نے خود چھوڑ دیا اور پانچویں کو خدا تعالیٰ نے حق کی تائید کر کے نیست و نابود کیا ۔ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا 12 اب اے حاضرین ۔ اے خدا تعالیٰ کے نیک دل بندو ۔ سوچ کر دیکھو اور ذرہ اپنے فکر کو خرچ کر کے نگاہ کرو کہ حضرت مولوی محمد بشیر صاحب کا کیا دعوی تھا۔ یہی تو تھا کہ آیت لیؤمنن بہ کے وہ بچےاور صحیح معنے ٹھہر سکتے ہیں جن میں لفظ ليؤمنن کو خالص مستقبل ٹھہرایا جائے اور مولوی صاحب نے اپنے مضمون کے صفحوں کے صفحے اسی بات کے ثابت کرنے کیلئے لکھ مارے کہ نون ثقیلہ مضارع کے آخر مل کر خالص مستقبل کے معنوں میں لے آتا ہے۔ اسی دھن میں مولوی صاحب نے حضرت ابن عباس کے معنوں کو قبول نہیں کیا اور یہ عذر پیش کیا کہ وہ معنے بھی نحویوں کے اجماعی عقیدہ کے برخلاف ہیں۔ سو ہم نے مولوی صاحب کی خاطر سے ابن عباس کے معنوں کو پیش کرنے سے موقوف رکھا اور روایت عکرمہ کی بنا پر وہ معنے پیش کئے جو خالص مستقبل ہونے میں بکلی مولوی صاحب کے معنوں سے ہمرنگ اور ان نقصوں سے مبرا ہیں جو مولوی صاحب کے معنوں میں پائے جاتے ہیں۔ یہ بات ظاہر ہے کہ مسیح پر ایمان لانے کے وقت ہمارے سید و مولا خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ضروری ہے اور اس کے ضمن میں ہر یک نبی پر ایمان لانا داخل ہے۔ پھر کیا ضرورت ہے کہ اس ایمان کے لئے حضرت مسیح کو آسمانوں کے دارالسرور سے اس دار الابتلا میں دوبارہ لایا جائے۔ مثلا دیکھئے کہ جو لوگ بقول آپ کے آخری زمانہ میں آنحضرت صلحم پر ایمان لائیں گے یا اب ایمان لاتے ہیں۔ کیا ان کے بنی اسرائیل: ۸۲