اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 213 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 213

۲۱۳ الحق مباحثہ دہلی روحانی خزائن جلدم ایمان کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لے آویں۔ پس ایسا ہی یقین (۸۳) کیجئے کہ حضرت مسیح پر ایمان لانے کیلئے بھی دوبارہ ان کا دنیا میں آنا ضروری نہیں اور ایمان لانے اور دوبارہ آنے میں کچھ تلازم نہیں پایا جاتا اور اگر آپ اپنی ضد نہ چھوڑیں اور ضمیر لیؤمنن بہ کو خواہ نخواہ حضرت عیسی کی طرف ہی پھیرنا چاہیں باوجود اس فساد معنے کے جس کا نقصان آپ کی طرف عائد ہے۔ ہماری طرز بیان کا کچھ بھی حرج نہیں کیونکہ ہمارے طور پر برعایت خالص استقبال کے پھر اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس زمانہ کے سب اہل کتاب اپنی موت سے پہلے حضرت عیسی پر ایمان لے آویں گے۔ سو یہ معنے بھی خالص استقبال ہونے میں آپ کے معنے کے ہم رنگ ہیں کیونکہ اس میں کچھ شک نہیں کہ ابھی تک وہ زمانہ نہیں آیا جو سب کے سب موجودہ اہل کتاب حضرت عیسی پر یا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے ہوں۔ لہذا خالص استقبال کے رنگ میں اب تک یہ پیشگوئی موافق ان معنوں کے چلی آتی ہے۔ اب اگر ہماری اس تاویل میں آپ کوئی جرح کریں گے تو وہی جرح آپ کی تاویل میں ہوگی۔ یہاں تک کہ آپ پیچھا چھڑا نہیں سکیں گے۔ جن باتوں کو آپ اپنے پر چوں میں قبول کر بیٹھے ہیں انہیں کی بنا پر میں نے یہ تطبیق کی ہے۔ اور جس طرز سے آپ نے آخری زمانہ میں اہل کتاب کا ایمان لانا قرار دیا ہے اسی طرز کے موافق میں نے آپ کو ملزم کیا ہے اور اسی خالص استقبال کے موافق خالص استقبال پیش کر دیا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ صحابہ کے وقت سے اس آیت کو ذ والوجوہ قرار دیتے چلے آئے ہیں۔ ابن کثیر نے زیر تر جمہ اس آیت کے یہ لکھا ہے قال ابن جریر اختلف اهل التاويل في معنى ذلک فقال بعضهم معنی ذلک وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته لا يعنى قبل موت عيسى وقال آخرون یعنی بذلك وان من اهل الكتاب إلا ليؤمنن بعيسى قبل موت الكتابي ذكر من كان يوجه ذلك الى انه اذا عاين علم الحق من الباطل۔ قال على بن ابي طلحة عن ابن عباس في الأية قال لايموت يهودى حتى يومن بعیسی و گذاروى ابوداؤد الطيالسي عن شعبة عن ابي هارون الغنوى عن عكرمة عن ابن عباس فهذه كلها اسانيد صحيحة الى ابن عباس وقال اخرون معنى ذلك وان من اهل الكتاب إلا ليؤمنن