اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 208
روحانی خزائن جلدم ۲۰۸ الحق مباحثہ دہلی ۷۸ کے لگنے کی وجہ سے خالص استقبال کے معنوں میں ہو گیا ہے اور خالص استقبال کے معنے صرف اسی طریق بیان سے محفوظ رہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسی کا کسی آئندہ زمانہ میں نازل ہونا قبول کر کے پھر اس زمانہ کے اہل کتاب کی نسبت یہ اعتقاد رکھا جائے کہ وہ سب کے سب حضرت عیسی پر ایمان لے آویں گے اور فرماتے ہیں کہ جو حضرت ابن عباس وغیرہ صحابہ نے اسکے مخالف معنے کئے ہیں اور قبل موتہ کی ضمیر کتابی کی طرف پھیر دی ہے یہ معنے ان کی نحو کے اجماعی قاعدہ کے مخالف ہیں۔ کیوں مخالف ہیں؟ اس وجہ سے کہ ایسے معنوں کے کرنے سے لفظ لیسو مسن کا خالص استقبال کیلئے مخصوص نہیں رہتا۔ سو مولوی صاحب کی اس تقریر کا حاصل کلام یہ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ ابن عباس اور عکرمہ اور ابی ابن کعب وغیرہ صحابہ خونہیں پڑھے ہوئے تھے اور نحو کے وہ اجماعی قواعد جو مولوی صاحب کو معلوم ہیں انہیں معلوم نہیں تھے اسلئے وہ ایسی صریح غلطی میں ڈوب گئے جو انہیں وہ قاعدہ یاد نہ رہا جس پر تمام نحویوں کا اجماع اور اتفاق ہو چکا تھا بلکہ انہوں نے اپنی زبان کا قدیمی محاورہ بھی چھوڑ دیا جس کی پابندی طبعاً ان کی فطرت کے لئے لازم تھی۔ ناظرین برائے خدا غور فرماویں کہ کیا مولوی صاحب اس بات کے مجاز ٹھہر سکتے ہیں کہ ابن عباس جیسے جلیل الشان صحابی کو نحوی غلطی کا الزام دیو ہیں۔ اور اگر مولوی صاحب نحوی غلطی کا ابن عباس پر الزام قائم نہیں کرتے تو پھر کیا کوئی اور بھی وجہ ہے جس کے رو سے مولوی صاحب کے خیال میں ابن عباس کے وہ معنے اس آیت متنازع فیہ میں رو کے لائق ہیں جن کی تائید میں ایک قراءت شاذہ بھی موجود ہے یعنی قبل موتھم ۔ فرض کرو کہ وہ قراءت بقول حضرت مولوی صاحب ایک ضعیف حدیث ہے مگر آخر حدیث تو ہے۔ یہ تو ثابت نہیں ہوا کہ وہ کسی مفتری کا افترا ہے پس وہ کیا ابن عباس کے معنوں کو ترجیح دینے کیلئے کچھ بھی اثر نہیں ڈالتی یہ کس قسم کا تحکم ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ ابن عباس کے یہ معنے نحوی قاعدہ کے مخالف ہیں اور قراءت قبل موتهم کسی راوی کا افترا ہے۔ ابن عباس اور عکرمہ پر یہ الزام دینا کہ وہ نحوی قاعدہ سے بے خبر تھے میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا مولوی صاحب یا کسی اور کا حق ہے کہ ان بزرگوں پر ایسا الزام رکھ سکے جن کے گھر سے ہی نمو کلی ہے۔ ظاہر ہے کہ خو کوان کے محاورات اور ان کے فہم کی تابع ٹھہرانا چاہئے نہ کہ ان کی بول چال اور ان کے فہم کا محک اپنی خود تراشیدہ ٹھوکو قرار دیا جائے۔ اب اگر مولوی صاحب اپنی ضد کو کسی حالت میں چھوڑ نا نہیں چاہتے اور ابن عباس اور عکرمہ کو