اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 209
۲۰۹ روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی تھو کے اجتماعی قاعدہ سے بے خبر ٹھہراتے ہیں اور قراءت ابی بن کعب کو بھی جو قبل موتھم ہے بکی (۷۹) مردود اور متفق الافترا خیال کرتے ہیں تو ظاہر ہے کہ صرف ان کے دعوے سے ہی یہ ان کا بہتان قابل تسلیم نہیں ٹھہر سکتا بلکہ اگر وہ اپنے معنوں کو قطعیۃ الدلالت بنانا چاہتے ہیں تو ان پر فرض ہے کہ ان دونوں باتوں کا قطعی طور پر پہلے فیصلہ کر لیں۔ کیونکہ جب تک ابن عباس اور عکرمہ کے مخالفانہ معنوں میں احتمال صحت باقی ہے اور ایسا ہی کو حدیث قراءت شاذه بقول مولوی صاحب ضعیف ہے مگر احتمال صحت رکھتی ہے جب تک مولوی صاحب کے معنے باوجود قائم ہونے ان تمام احتمالات کے کیونکر قطعی ٹھہر سکتے ہیں۔ ناظرین آپ لوگ خود سوچ لیں کہ قطعی معنے تو انہی معنوں کو کہا جاتا ہے جن کی دوسری وجوہ سرے سے پیدا نہ ہوں یا پیدا تو ہوں۔ لیکن قطعیت کا مدعی دلائل شافیہ سے ان تمام مخالف معنے کو توڑ دے۔ لیکن مولوی صاحب نے اب تک ابن عباس اور عکرمہ کے معنوں اور قبل موتہم کی قراءت کو تو ڑ کر نہیں دکھلایا ان کا توڑنا تو صرف ان دو باتوں میں محدود تھا اول یہ کہ مولوی صاحب صاف بیان سے اس بات کو ثابت کر دیتے کہ ابن عباس اور عکرمہ ان کے اجماعی قاعدہ نحو سے بکلی بے خبر اور غافل تھے اور انہوں نے سخت غلطی کی کہ اپنے بیان کے وقت نحو کے قواعد کو نظر انداز کر دیا۔ دوسرے مولوی صاحب پر یہ بھی فرض تھا کہ قراءت شاذه قبل موتھم کے راوی کا صریح افتر ا ثابت کرتے اور یہ ثابت کر کے دکھلاتے کہ یہ حدیث موضوعات میں سے ہے۔ مجرد ضعف حدیث کا بیان کرنا اس کو بکلی اثر سے روک نہیں سکتا۔ امام بزرگ حضرت ابو حنیفہ فخر الائمہ سے مروی ہے کہ میں ایک ضعیف حدیث کے ساتھ بھی قیاس کو چھوڑ دیتا ہوں۔ اب کیا جس قدر حدیثیں صحاح ستہ میں بباعث بعض راویوں کے قابل جرح یا مرسل اور منقطع الاسناد ہیں وہ بالکل پایۂ اعتبار سے خالی اور بے اعتبار محض ہیں؟ اور کیا وہ محدثین کے نزدیک موضوعات کے برابر مجھی گئی ہیں؟ ناظرین متوجہ ہو کر سنواب میں اس بات کا بھی فیصلہ کرتا ہوں کہ اگر فرض کے طور پر ابن عباس اور عکرمہ اور مجاہد اور ضحاک وغیرہ کے معنے جو مخالف مولوی صاحب کے معنوں کے ہیں غلط ٹھہرائے جاویں اور قبول کیا جائے کہ یہ تمام اکابر اور بزرگ مولوی صاحب کے اجماعی قاعدہ نحو سے عمد آیا سہواً باہر چلے گئے تو پھر بھی مولوی صاحب کے معنے قطعية الدلالت نہیں ٹھہر سکتے ۔ کیوں نہیں ٹھہر سکتے ؟ اس کی وجوہ ذیل میں لکھتا ہوں۔ (۱) اول یہ کہ مولوی صاحب کے ان معنوں میں کئی امور ہنوز قابل بحث ہیں جن کا وہ یقینی