اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 206 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 206

روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی (۷۰) عرب عربا ء سے یہ دلیل ہے اور بجائے اسکے قاعدہ صحیحہ فلاں ہے یا یہ کہ فہم معنی قرآن کیلئے کوئی قاعدہ مقرر نہیں ہے جس طرح کوئی چاہے قرآن کے معنے گھڑ سکتا ہے اور درصورت تسلیم قاعدہ اور تسلیم متخصیص مضمون آیت بزمانه استقبال اس مضمون کے تخصیص زمانہ نزول مسیح سے فلاں دلیل کی شہادت سے باطل ہے یا اس تخصیص سے جو فائدہ بیان کیا گیا ہے وہ اور صورتوں اور معنی سے بھی جو بیان کئے گئے ہیں حاصل ہوسکتا ہے اور اگر مجرد اختلاف مفسرین تفسیر آیت میں اس تخصیص کا مبطل ہوسکتا ہے اور مجرد اقوال مفسرین آپ کے نزدیک لائق استدلال و استناد ہیں تو آپ مفسرین صحابہ و تابعین کے ان اقوال کو جو در باب حیات مسیح وارد ہیں قبول کریں یا ان کے ایسے معنے بتادیں جن سے وفات مسیح ثابت ہو۔ ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ جہان کے مفسرین اور جملہ صحابہ و تابعین ہمارے ساتھ ہیں ان میں کوئی اس کا قائل نہیں مسیح ابن مریم اب زندہ نہیں ہیں آپ ایک صحابی یا ایک تابعی یا ایک امام مفسر سے بر سند صحیح اگر یہ ثابت کر دیں کہ حضرت مسیح اب زندہ نہیں ہیں تو ہم دعوی حیات مسیح سے دست بردار ہو جائیں گے۔ لیجئے ایک ہی بات میں بات ملے ہوتی ہے اور فتح ہاتھ آتی ہے اب اگر آپ یہ ثابت نہ کر سکے تو ہم سے جمله مفسرین وصحابہ و تابعین کے اقوال سنیں جن کو ہم آئندہ پر چہ میں نقل کریں گے آپ مانیں یا نہ مانیں عام ناظرین تو اس سے فائدہ اٹھا ئیں گے اور اس سے نتیجہ بحث نکالیں گے آپ سے ہم کو امید نہیں رہی کہ آپ اصل مدعا کی طرف آئیں اور زائد باتوں کو چھوڑ کر صرف وہ دو حرفی جواب دیں جو اس منصفانہ جواب میں آپ سے طلب کیا گیا ہے۔ واخر دعوانا ان الحمد لله رب العلمين والصلوة والسلام على خير ۔ خلقه محمد و آله وصحبه اجمعین۔ نمبر ۳ دستخط محمد بشیر عفی عنہ ۱/۲۷ اکتوبر ۱۸۹۱ء حضرت اقدس مرزا صاحب بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدَهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ سبحانک ما اعظم شانک تهدى من تشاء و تضل من تشاء و تعلم من تشاء من لدنک علما ۔ اما بعداے ناظرین آپ صاحبوں پر واضح ہے کہ حضرت مولوی محمد بشیر صاحب نے مجھ سے