اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 205

۲۰۵ روحانی خزائن جلده الحق مباحثہ دہلی اسکے سوا کسی بات کے جواب سے معترض نہ ہوتے آپ نے نہ پہلی صورت اختیار کی نہ دوسری بلکہ میری (۷۵) اصلی دلیل کے علاوہ اور باتوں سے بھی تعرض کیا مگر ان کو بھی ادھورا چھوڑا اور بہت سی باتوں کا حوالہ آئندہ پر چھوڑا اور ان کے مقابلہ میں اپنے دلائل احادیث بخاری وغیرہ کے بیان کو بھی آپ نے آئندہ پر چہ پر ملتوی کیا اور جو کچھ بیان کیا ایسے انداز سے بیان کیا کہ اصل دلیل سے بہت دور چلے گئے اور اپنے بیان کو ایسے پیرا یہ میں ادا کیا کہ اس سے عوام دھو کہ کھائیں اور خواص ناخوش ہوں اس کی ایک مثال آپ کی یہ بحث ہے کہ آپ مدعی نہیں ہیں۔ صاحب من جس حالت میں میں خود مدعی ہو کر دلائل پیش کر چکا تھا تو آپ کو اس بحث کی کیا ضرورت تھی۔ دوسری مثال یہ ہے کہ حضرت شیخنا و شیخ الکل کی رائے کا ذکر بے موقع کر کے لوگوں کو پھر جتانا چاہا کہ حضرت شیخ الکل بھی اس بحث میں آپ کے مخاطب ہیں حالانکہ شیخ الکل کی بحث سے فرار اختیار کر کے آپ نے مجھے مخاطب بحث بنایا تھا لہذا شیخ الکل کا ذکر میرے خطاب میں محض اجنبی و نا مناسب تھا۔ تیسری مثال یہ ہے کہ آپ نے چند تفاسیر کی عبارات و اقوال بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم نقل کر کے عوام الناس کو یہ جتانا چاہا ہے کہ تمام مفسرین اور عامہ صحابہ و تابعین مسئلہ حیات وفات مسیح میں آپ کے موافق اور ہمارے مخالف ہیں اور یہ محض مغالطہ ہے کوئی صحابی کوئی تابعی کوئی مفسر اس بات کا قائل نہیں ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام اس وقت زندہ نہیں ہیں۔ چوتھی مثال آپ کا عوام الناس کو یہ جتانا ہے کہ نون لیسو منن کو استقبال کے لئے ٹھہرانا تمام صحابہ ومفسرین کو جاہل قرار دینا ہے جو سراسر آپ کا دھوکا و مغالطہ ہے آپ کی اس قسم کی باتوں کا میں تین دفعہ تو جواب تر کی بتر کی دے چکا آئندہ بھی یہ ہی طریق جاری رہا تو اس سے آپ کو یہ فائدہ ہوگا کہ اصل بات مل جائے گی اور آپ کے اتباع میں آپ کی جواب نویسی ثابت ہو جائے گی مگر اس میں مسلمانوں کا یہ حرج ہوگا کہ ان پر نتیجہ بحث ظاہر نہ ہوگا اور آپ کا اصل حال نہ کھلے گا کہ آپ لا جواب ہو چکے ہیں اور اعتقاد وفات مسیح میں خطا پر ہیں اور بات کو ادھر ادھر لیجا کر ٹلا رہے ہیں لہذا آئندہ آپ کو اس پر مجبور کیا جاتا ہے کہ اگر آپ کو بحث منظور اور الزام فرار سے احتراز مد نظر ہے تو زائد باتوں کو چھوڑ کر میری اصل دلیل پر کلام و بحث کو محد و دو محصور کریں اور جو میں نے یہ شہادت قواعد نحویہ اجماعیہ مضمون آیت کا زمانہ استقبال سے مخصوص ہونا اور بصورت صحت تخصیص اس مضمون کا وقت نزول مسیح سے مخصوص ہونا ثابت کیا ہے اس کا جواب در صورت عدم تسلیم قواعد نحو یہ اجماعیہ دو حرفی یہ دیں کہ تمام قواعد نحوی بریکا رو بے اعتبار ہیں یا خاص کر یہ قاعدہ غلط ہے اور اس کو فلاں شخص نے غلط قرار دیا ہے اور اس کی غلطی پر قرآن یا حدیث صحیح یا اقوال