اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 204 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 204

روحانی خزائن جلد ۴ ۲۰۴ الحق مباحثہ دہلی ہو جو آہستگی و بردباری کے معنے میں ہے کما فی الصراح - قاموس میں ہے والحلم بالكسر الاناءة والعقل جمعه احلام و حلوم و منه ام تامر هم احلامهم وهو حليم جمع حلماء و احلاما - قوله جب کہ عیسی بن مریم کی حیات ہی ثابت نہیں ہوتی اور موت ثابت ہو رہی ہے تو عیسی کے حقیقی معنے کیونکر مراد ہو سکتے ہیں۔ اقول اس کلام میں بد و وجہ شک ہے۔ اوّل یہ کہ آیت وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ سے آپ کے اقرار سے صراحتاً موت ثابت ہے کیونکہ آپ نے تو ضیح المرام و ازالہ الا وہام میں اقرار کیا ہے کہ ضمیر موتہ کا عیسیٰ کی طرف راجع ہے اور بعد اقرار اس امر کے حیات کا اقرار لازم آتا ہے کمامر تقريره بحيث لا يحوم حوله شک ۔ دوم بر تقدیر موت بھی نزول خود حضرت عیسی کا نہ محال عقلی ہے اور نہ محال عادی اور جو چیز محال عادی و عقلی نہ ہو اور مخبر صادق اس کی خبر دے تو اس سے انحراف جائز نہیں اور احادیث صحیحہ میں نزول عیسی کی خبر متواتر موجود ہے۔ قوله جب آپ حیات مسیح کو ثابت کر دکھائیں گے تو پھر ان کا نزول بھی مانا جائے گا۔ اقول اس میں کچھ ملازمہ نہیں بر تقدیر وفات بھی نزول کے نہ ماننے کی کوئی وجہ معقول نہیں ہے۔ قولہ ورنہ بخاری میں وہ حدیثیں بھی ہیں جن میں ابن مریم کا ذکر کر کے ان سے مراد کوئی مثیل لیا گیا ہے۔ اقول ظاہر اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سوائے احادیث نزول کے دیگر احادیث بھی بخاری میں ایسی ہیں جن میں ابن مریم کا ذکر کر کے اس سے مراد اس کا کوئی مثیل لیا گیا ہے پس آپ کو چاہئے کہ براہ عنایت ان احادیث کو نقل فرمائیے تا کہ اس میں نظر کی جاوے کہ وہاں مثیل مراد لیا گیا ہے یا نہیں ۔ قولہ افسوس کہ اب تک آپ کچھ پیش نہ کر سکے۔ اقول ۔ افسوس کہ باوجود اسکے کہ آپ کے اقرار سے حیات مسیح آیت وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ کے صراحة ثابت ہو گئی پھر بھی آپ ایسا فرماتے ہیں۔ انا للہ وانا اليه راجعون والــى الله المشتكى اب سنئے یہ تو آپ کی تحریر کا جواب تر کی بتر کی ہوا اب ایک نہایت منصفانہ اور فیصلہ کرنے والا جواب دیا جاتا ہے آپ اگر انصاف کے مدعی اور حق کے طالب ہیں تو اسی جواب کا جواب دیں اور جواب ترکی بترکی سے تعارض نہ کریں ایسا کریں گے تو یقیناً سمجھا جائے گا کہ آپ فیصلہ کرنا نہیں چاہتے اور احقاق حق سے آپ کو غرض نہیں ہے وہ جواب یہ ہے کہ مرزا صاحب! میں نے کمال نیک نیتی سے احقاق حق کی غرض سے اپنے ان جملہ دلائل کو جن کو میں اس وقت پیش کرنا چاہتا تھا یکبارگی قلم بند کر کے آپ کی خدمت میں پیش کر دیا اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا تھا کہ میرا اصل متمسک اور مستقل دلیل پہلی آیت ہے اور اس کے قطعية الدلالت کے ثبوت میں قواعد نحو یہ اجماعیہ کو پیش کیا آپ بھی نیک نیت اور طالب حق ہوتے تو اس کے جواب میں دوصورتوں میں سے ایک صورت اختیار کرتے یا تو میرے جملہ دلائل وجوابات سے تعرض کرتے اور ان میں سے ایک بات کا جواب بھی باقی نہ چھوڑتے یا صرف میری اصل دلیل سے تعرض فرماتے