اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 202 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 202

روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی ان هذا الذي قاله ابن جرير هو الصحيح المقصود من سياق الآي في تقرير بطلان ما ادعته اليهود من قتل عيسى و صلبه و تسلیم من سلم لهم من النصارى الجهلة ذالک۔ انتھی۔قولہ اور میں نے جو آپ کے قاعدہ نون ثقیلہ کا نام جدید رکھا تو اس کی یہ وجہ ہے کہ اگر آپ کا یہ قاعدہ تسلیم کر لیا جاوے نعوذ باللہ بقول آپ کے ابن عباس جیسے صحابی کو جاہل نادان قرار دینا پڑتا ہے۔ اقول میں نے تو وہی معنے جو تمام صحابہ وتابعین وغیرھم سے منقول ہیں اور وہی قاعدہ جو عامہ مسلمین کا معمول رہا ہے لکھے ہیں البتہ آپ کے مسائل مخترعہ کی بنا پر سارے صحابہ کو جاہل ماننا پڑتا ہے فما هو جو ابكم فهو جوابی علاوہ اس کے اول صحابہ کے کلام میں کہیں تصریح معنے حال کی نہیں ہے ان کا کلام معنے مستقبل پر بھی محمول ہو سکتا ہے جیسا کہ آپ تحریر اول میں اس کا اعتراف کر چکے ہیں باقی رہا یہ امر کہ جن لوگوں نے تعمیر کتابی کی طرف پھیری ہے وہ اس امر میں خطا پر ہیں یہ کوئی مقام استبعاد نہیں۔ آپ بہت سے صحابہ کو اکثر مسائل میں خطا پر جانتے ہیں۔قولہ اور قراءت قبل موتهم کوخواہ نخواہ افتر اقرار دینا پڑے گا۔ اقول خواہ نخواہ چہ معنے دارد - قراءت مذکورہ فی الواقع ضعیف ہے لائق احتجاج نہیں ۔ كما مربيانه الفا ۔ قولہ کیا آپ کا یہ نحوی قاعدہ ان اکابر کو جاہل قرار دے سکتا ہے اور کیا صد با مفسرین کو بلکہ ہزار ہا جواب تک یہ معنے کرتے آئے وہ جاہل مطلق اور آپ کے نحو سے غافل تھے۔ اقول سراسر مبنی سوء فہم پر ہے معنے مذکور کا فساد اس وجہ سے نہیں کہ وہ مخالف ہے قاعدہ نحو کے بلکہ یہ معنے تو سراسر موافق ہیں قاعدہ نحو کے کیونکہ اس معنے پر تو مضارع صریح بمعنے استقبال کیا گیا ہے ذرا سوچ کر جواب دیجئے۔ قولہ کوئی مبسوط تفسیر تو پیش کرو جوان معنوں سے خالی ہے یا جس نے ان معنوں کو سب سے مقدم نہ رکھا إلی قولہ بلکہ سب کے سب آپ ہی کے معنوں کو ضعیف ٹھہراتے ہیں۔ اقول دو بڑی تفسیریں معتبر پرانی پیش کرتا ہوں ایک تفسیر ابن کثیر دوسری تفسیر ابن جریرہ کہ ان دونوں نے معنے مذکور کو مقدم نہیں رکھا اور نہ میرے معنے کو ضعیف کہا بلکہ صحت کی تصریح کی ہے۔ پس اس مقام پر کذب اس قول کا خیالشمس في نصف النهار ظاہر ہو گیا۔ قولہ حضرت اس قراءت سے حضرت مسیح ابن مریم کی زندگی کیونکر اور کہاں ثابت ہوئی اب تو قبل موتہ کے ضمیر سے مسیح کی زندگی ثابت کرنی تھی۔ اقول یہ قول بھی سور فہم پرمبنی ہے میں نے یہ نہیں کہا ہے کہ قراءت مذکورہ سے مسیح بن مریم کی زندگی ثابت ہے میں نے تو صرف یہ کہا ہے کہ قراءت مذکورہ مخالف ہمارے معنے سے نہیں بالجملہ مقصود رفع مخالفت ہے نہ اثبات دعوی و بینھما فرق ہے۔