اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 198 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 198

روحانی خزائن جلده ۱۹۸ الحق مباحثہ دہلی تو آپ فوراً اس قاعدہ کا انکار کر جائیں گے اور یہ بات آپ کی علم و دیانت سے خلاف ہے کیونکہ اہل علم کو ان علوم سے چارہ نہیں ہے اور ہم کو الفاظ قرآن وحدیث کے معانی موافق لغت و محاورہ عرب کے سمجھنا ضروری امر ہے ورنہ کسی مسئلہ پر استدلال نہیں ہوسکتا ہے اور یہ امرفی زماننا غیر ممکن ہے کہ خود عرب میں جا کر ہرافت و محاورہ اور جمیع قواعد صرف و نحو و معانی وغیرہ کی تحقیق کی جاوے پس اگر آپ کو کسی اہل اسلام سے مباحثہ کرنا منظور ہے تو پہلے ان دو کاموں سے ایک کام کیجئے اور اگر ایک بھی آپ قبول نہ کریں گے تو یہ امر آپ کی گریز پر محمول ہوگا یا تو اخت صرف و نحو و معانی و اصول فقه و اصول حدیث کی اجتماعی باتوں کی تسلیم کرنے کا اقرار کیجئے یا بالفعل مناظرہ سب اہل اسلام سے موقوف کر کے ایک الگ کتاب علوم مذکورہ میں تصنیف فرمائیے اور جو کچھ اول علموں میں آپ کو ترمیم کرنا ہو وہ کر لیجئے اس کے بعد مباحثہ کیجئے تا کہ آپ کی مسلمات سے آپ کو الزام دیا جاوے ورنہ موافق اس طریقہ کے جو آپ نے اختیار کیا ہے کوئی عاقل کسی عاقل کو الزام نہیں دے سکتا ہے۔ قولہ آپ جانتے ہیں کہ قرآن کریم میں ان هذين تسحرن آیت موجود ہے۔ اقول اس کا جواب عامہ تفاسیر میں مذکور ہے۔ عبارت بیضاوی کی اس مقام پر نقل کی جاتی ہے و هذان اسم ان عـلـى لـغـة بلحارث ابن الشان كـعـب فانهم جعلوا الالف للتثنية واعربوا المثنى تقديرا وقيل اسمها ضمير ا المحذوف و هذان لساحران خبرها وقيل ان بمعنى نعم وما بعدها مبتداء و خبر فيهما ان اللام لا يدخل خبر ا المبتداء وقيل اصله انه هذان لهما ساحران فحذف الضمير و فيه ان الموكد بالام لا يليق به الحذف انتهى قوله جس میں بجائے ان هذان کے ان ھذین لکھا ہوا قول یہ خطائے فاحش ہے صواب یہ ہے کہ جس میں بجائے ان هذين کے ان هذان لکھا ہو قولہ آپ کو یاد ہے کہ میرا یہ مذہب نہیں ہے کہ قواعد موجودہ صرف دونو غلطی سے پاک ہیں یا ہمہ وجوہ ستم و کمل ہیں۔ اقول یہ بات اگر قواعد اختلافیہ کی نسبت کہی جاوے تو مسلم ہے لیکن قواعد اجماعیہ کی نسبت ایسا کہنا گویا دروازہ الحاد کا کھولنا اور سب احکام شرعیہ کا باطل کرنا ہے کیونکہ قواعد جب غلط ٹھہرے خود عرب میں جا کر فی زمانا تحقیق لغت وقواعد صرف و نحو غیر ممکن ۔ پس پابندی قواعد کی باقی نہ رہے گی ہر شخص اپنی ہوا کے موافق قرآن وحدیث کے معنے کرے گا آپ کو چاہئے کہ قواعد اجماعیہ کے تعلیم کا جلد اشتہار دے دیجئے یا کوئی کتاب لغت وقواعد صرف و نحو موافق قرآن وحدیث کے اپنے اجتہاد سے بنا کر جلد شائع کیجئے تا کہ انہی قواعد کی بنا پر آپ سے بحث کی جاوے۔ قولہ قرآن کریم ان کی غلطی ظاہر کرتا ہے اورا کا بر صحابہ اس پر شہادت دے رہے طه : ۶۴