اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 186 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 186

روحانی خزائن جلدم ۱۸۶ الحق مباحثہ دہلی (۵۶) کا وقت ہو جب کہ ایمان بوجہ انقطاع وقت تکلیف کے کچھ نفع نہیں دیتا۔ اور شہر بن حوشب سے روایت ہے کہ مجھے حجاج نے کہا کہ ایک آیت ہے کہ جب بھی میں نے اس کو پڑھا تو اس کی نسبت میرے دل میں ایک خلجان گذرا یعنی یہی آیت اور خلجان یہ ہے کہ مجھے کتابی اسیر قتل کرنے کیلئے دیا جاتا ہے اور میں یہود یا نصاری کی گردن مارتا ہوں اور میں اس کے مرنے کے وقت یہ نہیں سنتا کہ میں عیسی پر ایمان لایا۔ ابن حوشب کہتا ہے کہ میں نے اس کو کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ جب یہودیوں پر جان کندن کا وقت آتا ہے تو فرشتے اس کے منہ پر اور پیچھے مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے دشمن خدا تیرے پاس عیسی نبی آیا اور تو نے اس کی تکذیب کی پس وہ کہتا ہے کہ اب میں عیسی پر ایمان لایا کہ وہ بندہ اور پیغمبر ہے اور نصرانی کو فرشتے کہتے ہیں کہ تیرے پاس عیسی نبی آیا اور تو نے اس کو خدا اور خدا کا بیٹا کہا تب وہ کہتا ہے کہ اب میں نے قبول کیا کہ وہ خدا کا بندہ اور رسول ہے۔ اور ابن عباس سے روایت ہے کہ اس نے ایک موقعہ پر یہی تفسیر کی تب عکرمہ نے اس کو کہا کہ اگر نا گاہ کسی شخص کی گردن کاٹ دی جائے تو کس وقت اور کیونکر وہ عیسی کی نبوت کا اقرار کرے گا۔ تب ابن عباس نے کہا کہ اس کی اس وقت تک جان نہیں نکلے گی جب تک اس کے لبوں پر کلمہ اقرار نبوت مسیح کا جاری نہ ہولے پھر عکرمہ نے کہا کہ اگر وہ گھر کی چھت پر سے گرے یا جل جائے یا کوئی درندہ اس کو کھا لیوے تو کیا پھر بھی اقرار نبوت عیسی کا اس کو موقعہ ملے گا تب ابن عباس نے جواب دیا کہ وہ گرتے گرتے ہوا میں یہ اقرار کر دے گا۔ اور جب تک یہ اقرار نہ کر لے تب تک اس کی جان نہیں نکلے گی اور اسی پر دلالت کرتی ہے قراءت اُبی بن کعب کی ۔ الا ليُؤْمِنَنَّ به قبل موتهم بضم النون یعنی دوسری قراءت میں بجائے قبل موتہ کے قبل موتهم لکھا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ در حقیقت موتہ کی ضمیر اہل کتاب کی طرف پھرتی ہے نہ حضرت عیسی کی طرف۔ اور ایک قول ضعیف یہ بھی ہے کہ دونوں ضمیر میں بد اور موتہ کی حضرت عیسی کی طرف پھرتی ہیں جس کا مطلب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ عیسی کے نزول کے بعد تمام اہل کتاب ان کی نبوت پر ایمان لے آویں گے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ ضمیر بہ کی اللہ تعالی کی طرف پھرتی ہے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ضمیر بہ کی پھرتی ہے۔ پھر نووی میں یہ عبارت لکھی ہے ذهب كثيرون بل اكثرون الى ان الضمير في أية الا ليؤمنن به يعود الى اهل الكتب ويؤيد هذا ايضًا قراءة من قرأ قبل موتهم یعنی بہت سے