اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 179 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 179

129 الحق مباحثہ دہلی روحانی خزائن جلدم اور صارف یہاں کوئی پایا نہیں جاتا ہے۔ آپ نے اس کا کچھ جواب نہ دیا۔ قولہ اور فہم ابو ہریرہ حجت (۴۹) کے لائق نہیں۔ اقول فہم ابو ہریرہ کو میں حجت نہیں کہتا ہوں استدلال تو لفظ ابن مریم سے ہے جو حدیث میں واقع ہے۔ قولہ یہ حدیث مرسل ہے۔ پھر کیونکر قطعية الدلالت ہوگی ۔ اقول اس حدیث کو قطعية الدلالت نہیں کہا گیا ہے صرف تائید کیلئے لائی گئی ہے۔ قولہ یہ بخاری کی حدیث صحیح مرفوع متصل سے جو حضرت مسیح کی وفات پر دلالت کرتی ہے اور نیز قرآن کی تعلیم سے مخالف ہے۔ اقول ۔ آپ وہ حدیث صحیح مرفوع متصل بیان فرمائیے تا کہ اس میں نظر کی جاوے اور مخالفت تعلیم قرآن غیر مسلم ہے ومـن يـدعـى فـعـلـيـه البيان واخر دعواينا ان الحمد لله ، رب العلمين والصلوة والسلام على خير ۔ خلقه محمد واله واصحابه اجمعین۔ محمد بشیر عفی عنه تاریخ ۲۵ / اکتوبر ۱۸۹۱ء حضرت اقدس مرزا صاحب بسم اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ - اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِينَ ۔ آمین۔ اما بعد واضح ہو کہ حضرت مولوی محمد بشیر صاحب نے اپنے جواب الجواب میں باوجود اس کے کہ اپنے ذمہ بار ثبوت حیات مسیح علیہ السلام قبول فرما چکے تھے۔ پھر اس عاجز کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ وفات ابن مریم علیہ السلام کا بار ثبوت آپ کے ذمہ ہے۔ کیونکہ آپ کی طرف سے یہ مستقل دعویٰ ہے کہ حضرت مسیح وفات پاچکے اور اصل امر آپ کے الہام میں یہی ٹھہرایا گیا ہے کہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے۔ اور اگر آپ کے ذمہ بار ثبوت نہیں تھا تو یہ عبث کام آپ نے کیوں کیا کہ توضیح مرام وازالہ اوہام میں دلائل وفات مسیح بہ بسط تمام بیان کئے ۔ میں کہتا ہوں کہ اس بات کو ادنی استعداد کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ بار ثبوت کسی امر متنازعہ فیہ کی نسبت اس فریق پر ہوا کرتا ہے کہ جو ایک امر کا کسی طور سے ایک مقام میں اقرار