اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 174 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 174

روحانی خزائن جلدم ۱۷۴ الحق مباحثہ دہلی شان المحصلین ۔ واضح ہو کہ آپ نے جو آیات مذکورہ میں سے بعض کو حال پر اور بعض کو استمرار پر محمول کیا ہے اس میں آپ متفرد ہیں اور محض اپنی رائے سے فرماتے ہیں یا سلف و خلف امت میں سے کسی نے یہ معنے گئے ہیں۔ بینوا توجروا۔ قولہ اور دوسری آیات جو حال اور استقبال کے سلسلہ متصل ممتدہ پر استمرار کے طور پر مشتمل ہیں۔ ان کی نظیر ذیل میں پیش کرتا ہوں پہلی یہ آیت وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَهُمْ سُبُلَنَا - اقول اس میں کلام ہے بدو وجہ اول یہ کہ یہ امر مسلم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ عادت مستمرہ ہے کہ مجاہدہ کرنے والوں کو اپنی راہیں دکھلایا کرتا ہے لیکن یہاں اس عادت کا بیان مقصود نہیں ۔ مقصود بالذات صرف وعدہ ہے اور امر موعود وعدہ کے بعد تحقیق ہوتا ہے جیسا کہ خود مرزا صاحب نے آیت وَإِن من أهل الكتب کے معنے دوم کی تائید میں صحیح خالص استقبال کی کی ہے حالانکہ اہل کتاب کا ز ہوق روح کے وقت ایمان لانا امر مستمر ہے خصوصیت کسی زمانہ کی اس میں نہیں ہے۔ دوم یہ کہ تراجم ثلاثہ تعین استقبال کرتے ہیں لفظ شاہ ولی اللہ صاحب کا یہ ہے۔ وآنانکہ جهاد کردند در راه ما البتہ دلالت کنیم ایشاں را بر اہائے خود ۔ عبارت شاہ رفیع الدین کی یہ ہے اور جن لوگوں نے کہ محنت کی بیچ راہ ہمارے کے البتہ دکھاویں گے ہم ان کو راہیں اپنی۔ عبارت شاہ عبد القادر صاحب کی یہ ہے اور جنہوں نے محنت کی ہمارے واسطے ہم سمجھا دیں گے ان کو اپنی راہیں ۔ قوله دوسری یہ آیت كَتَبَ اللهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَ رُسُلِي اقول یہاں ارادہ استمرار قطعا باطل ہے اور اراده استقبال متعین بدو وجہ ۔ اول یہ کہ بیضاوی میں لکھا ہے كَتَبَ اللَّهُ فِي اللُّوحِ لَا غُلِيَنَّ أَنَا وَ رُسُلِي بالحجة ظاہر ہے کہ لوح محفوظ میں جب لکھا ہے اس وقت اور اس سے پہلے غلبہ متصور نہیں ہے کیونکہ غلبہ کیلئے غالب و مغلوب ضروری ہے اس وقت نہ رسل تھے نہ ان کی امت تھی یہ سب بعد ان کے ہوئے ہیں۔ دوم تراجم ثلاثہ استقبال پر دلالت کرتے ہیں۔ لفظ شاہ ولی اللہ صاحب کا یہ ہے حکم کرد خدا البته غالب شوم من و غالب شوند پیغمبران من لفظ شاہ رفیع الدین صاحب کا یہ ہے لکھ رکھا ہے خدا نے البتہ غالب آؤں گا میں اور پیغمبر میرے۔ لفظ شاہ عبدالقادر صاحب کا یہ ہے۔ اللہ لکھ چکا کہ میں زبر ہوں گا اور میرے رسول۔ قولہ تیری آیت یہ ہے مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيوةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔ اقول اس آیت میں بھی استقبال مراد ہے بیچند وجوہ اول یہ کہ یہ وعدہ ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں مرقوم ہے هذا وعد من الله تعـالـى فـمـن عـمـل صـالـحـا وهـو العمل المتابع لكتاب الله وسنة نبيه صلى الله عليه وسلم ل العنكبوت : المجادلة: ٣٢٢ النحل: ۹۸