اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 170
روحانی خزائن جلدم ۱۷۰ الحق مباحثہ دہلی پر چہ نمبر ۲ مولوی محمد بشیر صاحب بسم اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ حامدا ومصليا مسلمًا ۔ اللهم انصر من نصر الحق وخذل الباطل واجعلنا منهم واخذل من خذل الحق ونصر الباطل ولا تجعلنا منهم۔ اما بعد واضح ہو کہ جناب مرزا صاحب نے بہت امور کا جواب اپنی تحریر میں نہیں دیا ہے۔ ناظرین کو مطالعہ سے معلوم ہو جائے گا اور اصل اور عمدہ بحث خاکسار کی تحریر میں نون تاکید کی ہے۔ جناب مرزا صاحب نے اس کے جواب میں نہ کوئی عبارت کسی کتاب نحو کی نقل کی اور نہ ان عبارات میں جو خاکسار نے نقل کی تھیں کچھ جرح کی فقط ۔ اور یہ امر بھی مخفی نہ رہے کہ میری اصل دلیل حیات مسیح علیہ السلام پر آیت اولی ہے میرے نزدیک یہ آیت اس مطلوب پر دلالت کرنے میں قطعی ہے۔ دوسری آیات محض تائید کے لئے لکھی گئی ہیں۔ جناب مرزا صاحب کو چاہئے کہ اصل بحث آیت اُولیٰ کی رکھیں دوسری ابحاث کو تبعی واستطرادی تصور فرمادیں فقط ۔ قوله ۔ یہ بات ہر گز صحیح نہیں ہے کہ مسئلہ وفات حیات مسیح میں بار ثبوت اس عاجز کے ذمہ ہو۔ اقول ۔ اس میں کلام ہے بیچند وجوہ ۔ اول یہ کہ جب حسب ارشاد آپ کے بارثبوت حیات خود خاکسار نے اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ تو اب یہ بحث بے فائدہ ہے۔ دوم بار ثبوت وفات کا آپ کے ذمہ نہ ہونا خاکسار کی سمجھ میں نہیں آتا ہے کیونکہ آپ نے تو ضیح مرام میں دعویٰ کیا ہے کہ حضرت مسیح دنیا میں نہ آویں گے اور جو دلیل اس پر پیش کی ہے حاصل اس کا یہ ہے کہ مسیح وفات پاچکے اور جو کوئی وفات پا چکتا ہے وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے اور جو جنت میں داخل ہو جاتا ہے وہ جنت سے نکالا نہیں جاتا۔ پس یہ دلیل متضمن تین مقدموں کو ہے اور دلیل کے ہر مقدمہ کا بار ثبوت مدعی کے ذمہ ہوتا ہے۔ سوم آپ نے اپنے خط موسومہ مولوی محمد حسین صاحب نمبر ۱۲ میں لکھا ہے ۔ جناب آپ خوب جانتے ہیں کہ اصل امر اس بحث میں جناب مسیح ابن مریم کی وفات یا حیات ہے اور میرے الہام میں بھی یہی اصل قرار دیا گیا ہے کیونکہ الہام یہ ہے کہ مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تو آیا ہے سو پہلا اور اصل امر الہام میں بھی یہی ٹھہرایا گیا ہے کہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکا ہے۔ پس وفات مسیح ابن مریم آپ کا مستقل دعوی ہے اس لئے بار ثبوت وفات آپ کے ذمہ ہے۔ بالجملہ بار ثبوت وفات دو حیثیت سے آپ کے ذمہ ہے۔ ایک اس حیثیت سے کہ یہ اصل دعوئی آپ کا ہے۔ دوسرے اس حیثیت سے کہ مسیح موعود ہونے کے دعوی کی