اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 171

روحانی خزائن جلدم 121 الحق مباحثہ دہلی دلیل کا یہ ایک مقدمہ ہے۔ چہارم اگر بار ثبوت آپ کے ذمہ نہیں ہے تو یہ کام عبث آپ نے کیوں کیا (۳۱) کہ آپ نے ادلہ وفات مسیح توضیح مرام وازالتہ الا وہام میں یہ بسط تمام بیان کئے۔ قولہ ۔ مولوی صاحب نے اس کامیابی کی امید پر کہ کسی طرح آیت موصوفہ بالا قطعية الدلالت ہو جاوے یہ ایک جدید قاعدہ بیان فرمایا ہے کہ آیت کے لفظ لیومنن میں نون تاکید ہے۔ اور نون تاکید مضارع کو خالص استقبال کیلئے کر دیتا ہے۔ اقول اس قاعدہ کو جدید قاعدہ کہنا نہایت محل استبعاد ہے ۔ اگر مرزا صاحب میری ہی تحریر کو غور سے پڑھ لیتے تو معلوم ہو جا تا کہ از ہری اور ملا جامی اور عبدالحکیم اور صاحب مغنی اور شیخ زادہ نے اس قاعدہ کی تصریح کی ہے اور سب کتب نحو میں یہ قاعدہ مرقوم ہے کسی نے اس میں خلاف نہیں کیا یہاں تک کہ میزان خوان اطفال بھی جانتے ہیں کہ نون تاکید مضارع کو بمعنی استقبال کر دیتا ہے۔ قولہ۔ چنانچہ انہوں نے اپنے خیال میں اس مدعا کے اثبات کیلئے قرآن کریم سے نظیر کے طور پر ایسے الفاظ نقل کئے ہیں جن کی وجہ سے ان کے زعم میں مضارع استقبال ہو گیا ہے۔ اقول۔ خاکسار کی اصل دلیل اتفاق ائمہ نحات کا ہے اس قاعدہ پر ۔ اس کا جواب مرزا صاحب نے مطلق نہیں دیا۔ ہاں آیات اس قاعدہ کی تائید کیلئے البتہ لکھی گئی ہیں ۔ مرزا صاحب پر واجب ہے کہ اس قاعدہ کے توڑنے کیلئے کوئی عبارت کسی کتاب معتبر ٹھو کی پیش کریں۔ قوله - کیا استقبال کے طور پر یہ دوسرے معنے بھی نہیں ہو سکتے کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیح پر ایمان نہیں لائے گا۔ اقول۔ مخفی نہ رہے کہ اس معنے کا مناط اس پر ہے کہ احتضار کے وقت ہر شخص پر وہ حق کھل جاتا ہے جس کو وہ نہ جانتا تھا جیسا کہ تفسیر ابن کثیر وغیرہ میں لکھا ہے اور یہ امر نفس الامر میں تینوں زمانوں کو شامل ہے یعنی نزول آیت کے قبل کے زمانہ اور وقت نزول کا زمانہ اور بعد کا زمانہ اب آیت اگر خالص استقبال کیلئے کیجئے گا تو یہ شبہ ہوگا کہ یہ امر زمانہ ماضی و حال کو شامل نہیں ہے اور یہ خلاف نفس الامر ہے پس اس کلام میں یہ عیب ہوا کہ خلاف نفس الامر کا موہم ہے اور فائدہ کوئی نہیں ہے کہ اگر کہا جاوے کہ اس آیت میں وعید ہے اہل کتاب کے لئے اور تحریض ہے ان کو ایمان لانے پر قبل اس کے کہ مضطر ہوں اس کی طرف جیسا کہ بیضاوی وغیرہ میں لکھا ہے اور اس وعید وتحریض سے وہی اہل کتاب منتفع ہو سکتے ہیں جو بعد نزول آیت کے مرنے والے ہیں نہ وہ جو پہلے مر چکے اور نہ وہ جو وقت نزول کے زہوق روح کی حالت میں تھے اس فائدہ کیلئے تخصیص استقبال کی گئی تو جواب یہ ہے کہ اگر ایسا لفظ اختیار کیا جاتا جو تینوں زمانوں کو شامل ہوتا تو یہی وعید و تحریض ان اہل کتاب کی حاصل ہوتی جو بعد نزول آیت کے مرنے والے ہیں۔