اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 164

۱۶۴ روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی (۳۳) وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ لا یعنی ہماری یہی عادت اور یہی سنت ہے کہ جو شخص عمل صالح بجا لاوے مرد ہو یا عورت ہو اور وہ مومن ہو ہم اس کو ایک پاک زندگی کے ساتھ زندہ رکھا کرتے ہیں اور اس سے بہتر جزا دیا کرتے ہیں جو وہ عمل کرتے ہیں۔ اب اگر اس آیت کو صرف زمانہ مستقبلہ سے وابستہ کر دیا جائے تو گویا اس کے یہ معنے ہوں گے کہ گزشتہ اور حال میں تو نہیں مگر آئندہ اگر کوئی نیک عمل کرے تو اس کو یہ جزا دی جائے گی۔ اس طور کے معنوں سے یہ ماننا پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے آیت کے نزول کے وقت تک کسی کو حیات طیبہ عنایت نہیں کی تھی فقط یہ آئندہ کیلئے وعدہ تھا۔ لیکن جس قدر ان معنوں میں فساد ہے وہ کسی عقل مند پر مخفی نہیں ۔ (۴) چوتھی آیت یہ ہے وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزُ : یعنی وہ جو خدا تعالیٰ کی مدد کرتا ہے خدا تعالی اس کی مدد کرتا ہے۔ اب حضرت دیکھئے اس آیت کے لفظ لینصرن کے آخر میں بھی نون ثقیلہ ہے۔ لیکن اگر اس آیت کے یہ معنی کریں کہ آئندہ کسی زمانہ میں اگر کوئی ہماری مدد کرے گا تو ہم اس کی مدد کریں گے تو یہ معنے بالکل فاسد اور خلاف سنت مستمر و الہیہ ٹھہریں گے کیونکہ اللہ جل شانه کی تو قدیم سے اور اسی زمانہ سے کہ جب بنی آدم پیدا ہوئے یہی سنت مستمرہ ہے کہ وہ مدد کرنے والوں کی مدد کرتا ہے۔ یوں کیونکر کہا جائے کہ پہلے تو نہیں مگر آئندہ کسی نامعلوم زمانہ میں اس قاعدہ کا پابند ہو جائے گا اور اب تک تو صرف وعدہ ہی ہے عمل درآمد نہیں ۔سُبحانه هذابهتان عظیم۔ (۵) پانچویں آیت یہ ہے وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَتُدْخِلَنَّهُمْ في الصلِحِينَ سے یعنی ہماری یہی سنت مستمر و قدیمہ ہے کہ جو جو لوگ ایمان لا دیں اور عمل صالح کریں ہم ان کو صالحین میں داخل کر لیا کرتے ہیں۔ اب حضرت مولوی صاحب دیکھئے کہ لندخلنھم میں بھی نون ثقیلہ ہے لیکن اگر اس جگہ آپ کی طرز پر معنی کئے جائیں تو اس قدر فساد لازم آتا ہے جو کسی پر پوشیدہ نہیں کیونکہ اس صورت میں ماننا پڑتا ہے کہ یہ قاعدہ آئندہ کیلئے باندھا گیا ہے اور اب تک کوئی نیک اعمال بجا لا کر صلحاء میں داخل نہیں کیا گیا۔ گویا آئندہ کیلئے گنہ گار لوگوں کی تو بہ منظور ہے اور پہلے اس سے دروازہ بند رہا ہے۔ سو آپ سوچیں کہ ایسے معنے کرنا کس قدر مفاسد کو مستلزم ہے۔ حضرت قرآن کریم میں اس کے بہت نمونے ہیں کہ نون ثقیلہ کے ساتھ مضارع کو بیان کر کے از منہ ثلاثہ اس سے مراد لئے گئے ہیں مجھے امید ہے کہ آپ اس سے انکار کر کے بحث کو طول نہیں دیں گے کیونکہ یہ تو احلی بدیہات میں سے ہے انکار کی کوئی جگہ نہیں۔ اب میں آپ کے اس قاعدہ کو توڑ چکا کہ نون ثقیلہ کے داخل ہونے سے خواہ نخواہ اور ہر ایک النحل : ٩٨ الحج : ۴۱ العنكبوت:١٠