اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 163
روحانی خزائن جلدم ۱۶۳ الحق مباحثہ دہلی پہلی آیات کی نظیر یہ ہے کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے فَلَنُو لِيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضُهَا فَوَل (٣٣) وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اب ظاہر ہے کہ اس جگہ حال ہی مراد ہے کیونکہ مجر دنزول آیت کے بغیر توقف اور تراخی کے خانہ کعبہ کی طرف منہ پھیرنے کا حکم ہو گیا یہاں تک کہ نماز میں ہی منہ پھیر دیا گیا۔ اگر یہ حال نہیں تو پھر حال کس کو کہتے ہیں۔ استقبال تو اس صورت میں ہوتا کہ خبر اور ظہور خبر میں کچھ فاصلہ بھی ہوتا سو آیت کے یہ معنے ہیں کہ ہم تجھ کو اس قبلہ کی طرف پھیرتے ہیں جس پر تو راضی ہے سوتو مسجد حرام کی طرف منہ کر اور ایسا ہی یہ آیت وَانْظُرُ إِلَى الهَكَ الَّذِي ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِنَّا لَتُحرقته " الخ یعنی اپنے معبود کی طرف دیکھ جس پر تو مختلف تھا کہ اب ہم اس کو جلاتے ہیں۔ اس جگہ بھی استقبال مراد نہیں۔ کیونکہ استقبال اور حال میں کسی قدر بُعد زمان کا ہونا شرط ہے۔ مثلاً اگر کوئی کسی کو یہ کہے کہ میں تجھے دس روپیہ دیتا ہوں سولے مجھ سے دس روپیہ تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوگا کہ اس نے استقبال کا وعدہ کیا ہے بلکہ یہ کہا جائے گا کہ یہ سب کا رروائی حال میں ہی ہوئی۔ اور دوسری آیات جو حال اور استقبال کے سلسلہ متصل ممند و پراشترا کی طور پر مشتمل ہیں ان کی نظیر ذیل میں پیش کرتا ہوں۔ (۱) پہلی یہ آیت وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا سے یعنی جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں اور کریں گے ہم ان کو اپنی راہیں دکھلا رہے ہیں اور دکھلائیں گے۔ صاف ظاہر ہے کہ اگر اس جگہ مجرد استقبال مراد لیا جائے تو اس سے معنے فاسد ہوجائیں گے اور یہ کہنا پڑے گا کہ یہ وعدہ صرف آئندہ کیلئے ہے اور حال میں جو لوگ مجاہدہ میں مشغول ہیں یا پہلے مجاہدات بجا لاچکے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی راہوں سے بے نصیب ہیں۔ بلکہ اس آیت میں عادت مستمرہ جاریہ دائرہ میں الازمنة الثلثہ کا بیان ہے جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ ہماری یہی عادت ہے کہ مجاہدہ کرنے والوں کو اپنی راہیں دکھلا دیا کرتے ہیں۔ کسی زمانہ کی خصوصیت نہیں بلکہ سنت مستمرہ دائرہ سائرہ کا بیان ہے جس کے اثر سے کوئی زمانہ باہر نہیں۔ (۲) دوسری یہ آیت كَتَبَ اللهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِی " یعنی خدا مقرر کر چکا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب ہوتے رہیں گے ۔ یہ آیت بھی ہر ایک زمانہ میں دائر اور عادت مستمرہ الہیہ کا بیان کر رہی ہے۔ یہ نہیں کہ آئندہ رسول پیدا ہوں گے اور خدا انہیں غالب کرے گا۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ کوئی زمانہ ہو حال یا استقبال یا گزشتہ سنت اللہ یہی ہے کہ رسول آخر کا ر غالب ہی ہو جاتے ہیں۔ (۳) تیسری آیت یہ ہے۔ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ اَوْ أُنثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَتَحْيِيَنَّهُ حَيَوةً طَيِّبَةً البقرة: ۱۴۵ ۲ طه : ۹۸ ۳ العنكبوت ۷۰ المجادلة : ٢٢