اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 162 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 162

روحانی خزائن جلدم ۱۶۲ الحق مباحثہ دہلی ۳۲ بہت سی کوشش کی ہے اور پوری جانفشانی سے ناخنوں تک زور لگایا ہے لیکن افسوس کہ وہ اس قصد میں ناکام رہے اور قطعية الدلالة نہ بنا سکے بلکہ اور بھی شبہات ڈال دیئے۔ مولوی صاحب نے اس کامیابی کی امید پر کہ کسی طرح آیت موصوفہ بالاقطعية الدلالة ہو جائے یہ ایک جدید قاعدہ بیان فرمایا ہے کہ آیت کے لفظ الیسو مسنن میں نون تاکید ہے اور نون تاکید مضارع کو خالص استقبال کیلئے کر دیتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے خیال میں اس مدعا کے اثبات کیلئے قرآن کریم سے نظیر کے طور پر کئی ایسے الفاظ نقل کئے ہیں جن کی وجہ سے ان کے زعم میں مضارع استقبال ہو گیا ہے۔ لیکن مجھے افسوس ہے کہ مولوی صاحب نے اس تفتیش میں ناحق وقت ضائع کیا کیونکہ اگر فرض کے طور پر یہ مان لیا جائے کہ آیت موصوفہ میں لفظ لیو منن استقبال کے ہی معنی رکھتا ہے پھر بھی کیونکر یہ آیت مسیح کی زندگی پر قطعية الدلالة ہو سکتی ہے کیا استقبالی طور پر یہ دوسرے معنے بھی نہیں ہو سکتے کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیح پر ایمان نہیں لائے گا دیکھو یہ بھی تو خالص استقبال ہی ہے کیونکہ آیت اپنے نزول کے بعد کے زمانہ کی خبر دیتی ہے بلکہ ان معنوں پر آیت کی دلالت صریحہ ہے اس واسطے کہ دوسری قراءت میں یوں آیا ہے جو بیضاوی وغیرہ میں لکھی ہے الاليؤمنن به قبل موتهم جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اہل کتاب اپنی موت سے پہلے مسیح ابن مریم پر ایمان لے آویں گے۔ اب دیکھئے کہ قبل موتہ کی ضمیر جو آپ حضرت مسیح کی طرف پھیرتے تھے دوسری قراءت سے یہ معلوم ہوا کہ وہ حضرت مسیح کی طرف نہیں بلکہ اہل کتاب فرقہ کی طرف پھرتی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ قراءت غیر متواترہ بھی حکم حدیث احاد کار رکھتی ہے اور آیات کے معنوں کے وقت ایسے معنے زیادہ تر قبول کے لائق ہیں جو دوسری قراءت کے مخالف نہ ہوں۔ اب آپ ہی انصاف فرمائیے کہ یہ آیت جس کی دوسری قراءت آپ کے خیال کو بکلی باطل ٹھہرا رہی ہے کیو نمر قطعية الدلالة ٹھہر سکتی ہے۔ ماسوا اس کے آپ نے جو نون ثقیلہ کا قاعدہ پیش کیا ہے وہ سراسر مخدوش اور باطل ہے۔ حضرت ہر ایک جگہ اور ہر ایک مقام میں نون ثقیلہ کے ملانے سے مضارع استقبال نہیں بن سکتا۔ قرآن کریم کیلئے قرآن کریم کی نظیریں کافی ہیں اگر چہ یہ سچ ہے کہ بعض جگہ قرآن کریم کے مضارعات پر جب نون ثقیلہ ملا ہے تو وہ استقبال کے معنوں پر مستعمل ہوئے ہیں۔ لیکن بعض جگہ ایسی بھی ہیں کہ حال کے معنے قائم رہے ہیں یا حال اور استقبال بلکہ ماضی بھی اشترا کی طور پر ایک سلسلہ متصلہ مند و کی طرح مراد لئے گئے ہیں۔ یعنی ایسا سلسلہ جو حال یا ماضی سے شروع ہوا اور استقبال کی انتہا تک بلا انقطاع برابر چلا گیا۔