اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 144

روحانی خزائن جلدم ۱۴۴ (۱۴) يبايعه من كل حزب عريفه ۷۵ على طاعة الرحمن في السهل والصَّعب تــراهـم خـضـوعــا خاشعين لربهم ۷۶ قلوبهم ملاى من الشوق والحبّ نفوع يفيد الناس من نفثاته ۷۷ ويسبى قلوب الخلق من خلقه العذب رحيـــم بهـــم كـالـوالـد البـر مشفق | ۷۸ ينفس عنهم كربة الجهل والعُجب وبـحـر عـلـوم يقذف الدرموجه ٧٩ الى الناس طرا لا يذود عن النهب يـحـلـق اهـل الـعـلـم والفضل عنده ۸۰ صباحًا مساء وهو كالبدر في الشهب قعودًا لديه تسقط الطير فوقهم ١ كانهـم استـولـت عليهم يد الرهب يدورون في اخذ المكارم حوله ۸۲ مثال النجوم الدايرات على القطب و كم من كتاب جاء نا منه معجب | ۸۳ له درجات عاليات على الكتب براهیـنـه تهـدى البرايا و كحله ۸۴ يجلى عيون الشك والجهل والعصب ۷۵۔ ہر گروہ کے شناسا آدمی اس سے بیعت کرتے ہیں کہ وہ ہر حال میں راحت و رنج میں اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں گے۔ ے۔ ان بیعت کر نیوالوں کو تم دیکھو ( وہ کیسے ہیں!) وہ اپنے رب کے آگے گڑ گڑانے والے ہیں۔ ان کے دل شوق و محبت الہی سے بھر پور ہیں۔ ۷۷۔ وہ نفع رساں ہے۔ خلقت کو اپنے کلام سے فائدہ بخشتا ہے اور اپنے خلق شیریں سے خلقت کے دل مٹھی میں کر لیتا ہے۔ ے ۔ ان پر مہربان باپ کی طرح رحیم و مشفق ہے۔ اور جہل اور خود بینی کی بلاؤں کو ان پر سے ٹالتا ہے۔ ۷۹۔ وہ علوم کا سمندر ہے جس کی موجیں تمام لوگوں کی طرف موتی پھینکتی ہیں اور پھر لوٹنے سے کسی کو روکتا نہیں۔ ۸۰ صبح و شام اہل علم وفضل اس کے گرد حلقہ کئے رہتے ہیں اور وہ ان میں ایسا ہے جیسے ستاروں میں بدر۔ ۸۱ ۔ وہ اہل علم اس کے حضور میں ایسے محو ہو کر بیٹھے رہتے ہیں کہ انہیں بے جان خیال کر کے پرندے ان پر بیٹھ جاتے ہیں گویا ہیت کا ہاتھ ان لوگوں پر غالب ہے۔ ۸۲ ۔ جس طرح بنات النعش قطب کے گرد گھومتے ہیں اسی طرح یہ اہل علم تحصیل معارف کیلئے اسکے گرد گھومتے ہیں ۔ ۸۳۔ اسکی کئی بڑی بڑی عجیب کتابیں بھی ہمیں ملیں جنہیں اور کتابوں پر بڑی بھاری فضیلت اور ترجیح ہے۔ ۸۴۔ اسکی براہین (احمدیہ ) خلقت کی ہادی ہے اور سرمہ چشم آریہ جہل شک اور تعصب کی آنکھوں کو جلادیتا ہے۔