اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 140 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 140

۱۴۰ روحانی خزائن جلدم ۱۰ شرقت بايذاء اللئام وشرهم ۳۵ وفتنتهم لا بـالـمــلام ولا العتب لعمرى هذى النائبات اخفها ۳۶ اشد على الانسان من وقعة القضب رعـى الــلــه طـيـفــا قـد اتاني بفرحة ٣٧ تكاد بهـا انـجـو من الهم والنصب فانـی بـلیـل بيـن هـد و رقدة ۳۸ اذا شيم برق الشرق في اسرع الوثب اضاءت به الأفاق والارض كلها ٣٩ وحار البرايا فيه خوفا من الخطب ففـاهـوا بما شاء وا ولم يتفكروا ۴۰ لفرط اختباط بالضجيج وبالصخب و كم مدع للعلم من فرط جهله ۴۱ تاوله بالهرج والطعن والضرب تانقتُ فيه غير يوم وليلة ۴۲ اراقب ما يبدر الزمان من العجب وقد اجتلى اثار خير ورحمة ٤٣ الجانب الشرقي مستوطن الخصب وانشق من ريح الصبا كل سُحرةٍ ۴۴ روایح تروى القلب کا لغصن الرطب ۳۵۔ میں خبیث طینت لوگوں کے شر وفتنہ سے نہ انکی ملامت و عتاب سے سخت تنگ آ گیا ہوں ۔ ۳۶۔ بخدا یہ ایسی مصیبتیں ہیں کہ ان میں سے ہلکی سے ہلکی بھی انسان پر تلوار کی ضرب سے زیادہ شدید ہیں۔ ۳۷۔ اللہ تعالیٰ اس خیال کا حافظ و ناصر ہو جو میرے پاس ایسی بشارت لایا جس سے امید پڑتی ہے کہ میں غم والم سے نجات پا جاؤں گا۔ ۳۸۔ اس کا واقعہ یوں ہے کہ میں ایک رات کچھ بیداری اور نیند کے درمیان تھا کہ شرقی بجلی اس زور سے گوندتی نظر آئی۔ ۳۹ ۔ کہ ساری دنیا اسکی روشنی سے منور ہو گئی اور لوگ حیران ہو کر کہنے لگے کہ کوئی بڑا حادثہ واقع ہوا چاہتا ہے۔ ۴۰۔ جو کچھ کسی کے منہ میں آیا بولتا رہا۔ مگر کسی کو بھی شدت اضطراب اور شور و غل کی وجہ سے سوچنے کا موقع نہ ملا۔ ۴۱۔ بعض مدعیان علم نے بڑی جہالت سے اسکی یہ تاویل کی کہ کوئی بڑا فتنہ اور جنگ ہونے والی ہے۔ ۴۲۔ میں بھی اس امر میں کئی رات دن غور کرتارہا اور منتظر تھا کہ زمانہ کیا عجیب واقعہ ظاہر کیا چاہتا ہے۔ مگر میں اپنے زعم میں مبارک سرزمین مشرق کی طرف سے رحمت و خیر کے آثار کا منتظر تھا۔ ۴۴ ۔ اور مشرقی ہوا سے ہر سحر مجھے ایسی خوشبو آتی ۔ جو شاخ تر کی طرح دل کو تر و تازہ کر جاتی ۔