البلاغ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 419 of 630

البلاغ — Page 419

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۱۹ البلاغ - فریا د ورد اب حمایت اسلام کا لفظ ان کے لئے موزوں ہے یا حمایت آریہ کا۔ اور پھر یہ بات بھی سوچنے کے لائق ہے کہ کیا یہ سچ ہے کہ حسب قول حامیان انجمن حمایت اسلام سرمہ چشم آریہ کے وقت (۳۴۸ اندرمن کی کتابیں از یاد رفتہ ہو چکی تھیں۔ مجھے سخت افسوس ہے کہ صرف میرے کینہ کی وجہ سے اس انجمن اور اس کے حامیوں نے انصاف اور راستی کے طریق کو کیوں چھوڑ دیا۔ اندرمن کی کتابوں کو کون سا ہزار دو ہزار برس گزر گیا تھا کہ مسلمانوں کو وہ زخم بھول گئے تھے کہ جو ناحق افترا سے اس کی کتاب تحفتہ الاسلام اور اندر بحر اور پاداش اسلام سے دلوں کو پہنچے تھے اور وہ کیسے مسلمان تھے جنہوں نے ایسی مفتریا نہ دھو کہ وہ کتابوں کو از یاد رفتہ کر دیا تھا اور اُن تحریروں پر راضی ہو گئے تھے۔ وہ کتا ہیں تو اب تک ہندو پیار سے پڑھتے اور شائع کرتے ہیں۔ ماسوا اس کے پھر ان کتابوں کے بعد ایک اور کتاب جو نہایت گندی تھی آریہ سماج والوں نے شائع کی جو کچھ تھوڑا عرصہ پہلے سرمہ چشم آریہ سے تالیف کی گئی تھی جس کو پنڈت دیانند نے تالیف کر کے ہندوؤں اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنا چاہا تھا جس کا نام ستیارتھ پر کاش ہے۔ اور ماسوا اس کے آریوں میں بذریعہ پنڈت دیا نند ایک نئی نئی تیزی پیدا ہو کر اور کئی چھوٹے چھوٹے رسالے بھی شائع ہونے شروع ہو گئے تھے اور ایک دو اخبار بھی اسی غرض سے نکلتے تھے جوا کثر بدزبانی سے بھرے ہوتے تھے اور ان لوگوں نے اور ان کے مذہب نے جنم لیتے ہیں اسلام پر حملہ کرنا اور سخت الفاظ استعمال کرنا شروع کر دیا تھا اور نہ صرف اسلام بلکہ وہ تو راجہ رامچندر اور راجہ کرشن وغیرہ ہندوؤں کے نسبت بھی اچھے خیال نہیں رکھتے تھے اور نہ باوا نا تک صاحب کی نسبت ان کی تحریر میں مہذبانہ تھیں ۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی تحریروں سے عام طور پر شور برپا ہوا تھا اور پنڈت دیا نند اور اس کے حامیوں کی اس وقت یہ کتابیں شائع ہوئی تھیں کہ جبکہ میری کسی کتاب کا نام ونشان نہ تھا اور ایک ورق بھی میں نے تالیف نہیں کیا تھا اور پنڈت دیا نند نے صرف یہی نہیں کیا کہ ستیارتھ پر کاش کو تالیف کر کے کروڑ ہا مسلمانوں کا دل دکھایا بلکہ اس نے پنجاب اور ہندوستان کا دورہ کر کے