البلاغ — Page 418
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۱۸ البلاغ - فریا دورد خدائے علیم ہی ان کو جزا دے ہم کیا کر سکتے ہیں۔ یادر ہے کہ رسالہ سرمہ چشم آریہ ایک زبانی مباحثہ کے طور پر بمقام ہوشیار پور لکھا گیا تھا اور یہ بات ہوشیار پور کے صدہا مسلمانوں اور ہندوؤں کو معلوم ہے کہ سرمہ چشم آریہ کے لکھے جانے کے خود آریہ صاحب ہی باعث اور محرک ہوئے تھے۔ سرمہ چشم آریہ کیا چیز ہے؟ یہ وہی مباحثہ ہے جو بتاریخ ۱۴/ مارچ ۱۸۸۶ء مجھ میں اور منشی مرلی دھر ڈرائنگ ماسٹر میں انہی کے نہایت اصرار سے بمقام ہوشیار پور شیخ مہرعلی رئیس کے مکان پر ہوا تھا۔ چنانچہ یہ تمام تفصیل دیباچہ سرمہ چشم آریہ میں لکھ دی گئی ہے۔ یہ مباحثہ نہایت متانت اور تہذیب سے ہوا تھا اور قریب پانسو ہندو اور مسلمان کی حاضری میں سنایا گیا تھا پھر کس قدر جھوٹ اور قابل شرم خیانت ہے کہ اس کتاب کو آریوں اور مسلمانوں کے نفاق کی جڑ ٹھہرائی گئی ہے۔ ہم ہر ایک تاوان کے سزاوار ہوں گے اگر کوئی یہ ثابت کر کے دکھلاوے کہ صرف ہمارے دلی جوش سے یہ کتاب لکھی گئی تھی اور اُس کے محرک لالہ مرلی دھر صاحب نہیں تھے ۔ بلکہ ہم قصہ کوتاہ کرنے کے لئے خود لالہ مرلی دھر صاحب کو ہی اس بارے میں منصف ٹھہراتے ہیں وہ حلفاً بیان کریں کہ کیا یہ مباحثہ بمقام ہوشیار پور ہماری تحریک سے ہوا تھا یا خود وہ میرے مکان پر آئے اور اس مباحثہ کے لئے درخواست کی تھی اور کہا تھا کہ اسلام پر میرے کئی سوالات ہیں اور نہایت اصرار سے مباحثہ کی ٹھہرائی تھی؟ ماسوا اس کے کوئی منصف اس کتاب کو اوّل سے آخر تک پڑھ کر دیکھ لے اس میں کوئی سخت لفظ نہیں ہے ۔ ہر ایک لفظ بحکم ضرورت بیان کیا گیا ہے جو حل پر چسپاں ہے پھر کیوں کر اس انجمن کے حامیوں نے میرے پر یہ الزام لگایا کہ آریہ صاحبوں اور لیکھرام کا کچھ بھی قصور نہیں دراصل زیادتی اس شخص کی طرف سے ہوئی ہے۔ اس سے ناظرین سمجھ لیں کہ اس انجمن کی نوبت کہاں تک پہنچ گئی ہے۔ سچ کہیں کہ جملہ سرمہ ہاشم آریہ کے صفحہ یہ میں یہ عبارت ہے۔ لالہ مرلی دھر صاحب ڈرائنگ ماسٹر سے ہمقام ہوشیار پور مباحثہ مذہبی کا اتفاق ہو اوجہ اس کی یہ ہوئی کہ ماسٹر صاحب موصوف نے خود آ کر درخواست کی۔ منہ