البلاغ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 402 of 630

البلاغ — Page 402

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۰۲ البلاغ ۔ فریاد درد (۳۴) اب لاہور سے بھیجا گیا۔ بلکہ اب بھی جب ان کو کتاب امہات المومنین کے مضامین پر اطلاع ہوئی تو صرف رڈ لکھنا پسند فرمایا۔ سید صاحب تینوں باتوں میں میرے موافق رہے۔ اول حضرت عیسیٰ کی وفات کے مسئلہ میں۔ دوم جب میں نے یہ اشتہار شائع کیا کہ سلطان روم کی نسبت گورنمنٹ انگریزی کے حقوق ہم پر غالب ہیں تو سید صاحب نے میرے اس مضمون کی تصدیق کی اور لکھا کہ سب کو اس کی پیروی کرنی چاہیے۔ سوم اسی کتاب امہات المومنین کی نسبت ان کی یہی رائے تھی کہ اس کا رڈ لکھنا چاہیے میموریل نہ بھیجا جائے ۔ کیونکہ سید صاحب نے اپنی عملی کارروائی سے رد لکھنے کو اس پر ترجیح دی۔ کاش اگر آج سید صاحب زندہ ہوتے تو وہ میری اس رائے کی ضرور کھلی کھلی تائید کرتے ۔ بہر حال ایسے امور میں تمام معزز مسلمانوں کے لئے سید صاحب مرحوم کا یہ کام ایک اسوہ حسنہ ہے جس کے نمونہ پر ضرور چلنا چاہیے اور بلا شبہ یہ طریق عمل سید صاحب کا کہ آپ نے امہات المومنین کا رد لکھنا مناسب سمجھا اور کوئی میموریل گورنمنٹ میں نہ بھیجا یہ درحقیقت ہماری رائے کی تصدیق ہے جو سید صاحب نے اپنی عملی کا رروائی سے لوگوں کے سامنے رکھ دی۔ ہماری رائے ہمیشہ سے یہی ہے کہ نرمی اور تہذیب اور معقولی اور حکیمانہ طرز سے حملہ کرنے والوں کا رڈ لکھنا چاہیے اور اس خیال سے دل کو خالی کر دینا چاہیے کہ گورنمنٹ عالیہ سے کسی فرقہ کی گوشمالی کرادیں۔ مذہب کے حامیوں کو اخلاقی حالت دکھلانے کی بہت ضرورت ہے۔ اس طرح پر مذہب بدنام ہوتا ہے کہ بات بات میں ہم اشتعال ظاہر کریں اور یادر ہے کہ ایڈیٹر ابزرور نے بہت ہی دھوکہ کھایا یا دھوکہ دینا چاہا ہے جبکہ اس نے میری نسبت یہ لکھا کہ گویا میں اس بات کا مخالف ہوں کہ جو لوگ ہمارے مذہب پر حملہ کریں ان کے حملوں کو دفع کیا جائے ۔ وہ میرے اس میموریل کو پیش کرتا ہے جس میں میں نے لکھا تھا کہ گورنمنٹ عالیہ فتنہ انگیز تحریروں کے روکنے کے لئے دو تجویزوں میں سے ایک تجویز اختیار کرے کہ یا تو ہر ایک فریق کو ہدایت ہو جائے