البلاغ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 403 of 630

البلاغ — Page 403

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۰۳ البلاغ ۔ فریاد درد کہ کسی اعتراض کے وقت بغیر اس کے کہ فریق مخالف کی معتبر کتابوں کا حوالہ دے ہرگز (۳۵) اعتراض کے لئے قلم نہ اٹھاوے اور یا یہ کہ قطعاً ایک فریق دوسرے فریق کے مذہب پر حملہ نہ کرے بلکہ اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیا کریں۔ اب ظاہر ہے کہ میرے اس بیان اور حال کے بیان میں کچھ تناقض نہیں ہے جیسا کہ ابز رور نے سمجھا ہے۔ کیا میری پہلی تحریر کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ مخالفوں کے حملہ کا جواب نہ دیا جائے؟ فرض کیا کہ ہم دوسروں کے مذہب پر حملہ نہ کریں مگر یہ تو ہمارا فرض ہے کہ غیروں کے حملے سے اپنے مذہب کو بچاویں اور اپنے مذہب کی خوبیاں دکھلاویں۔ غرض ہماری گورنمنٹ عالیہ ہمیں منع نہیں کرتی کہ ہم تہذیب کے ساتھ اپنے اصول مذہب کی حمایت کریں۔ سواے بزرگو خود دیکھ لو کہ اسلام کس قد ر حملوں کے نیچے دبا ہوا ہے۔ پادری صاحبوں کے حملے ہیں۔ فلسفہ جدیدہ کے حملے ہیں۔ آریہ صاحبوں کے حملے ہیں۔ برہم سماج کے حملے ہیں۔ دہریوں طبعیوں کے حملے ہیں۔ اب مجھے بے دھڑک کہنے دو کہ اس وقت سچا مسلمان وہی ہے جو اسلام کی حالت پر کچھ ہمدردی دکھاوے اور باعث سخت دلی اور لا پروائی یا ناحق کے دور دراز کے خیالات سے ہمدردی سے منہ نہ پھیرے۔ اے مردان ہمت شعار وہ انتظام جواب ہونا چاہیے۔ مجھے شرم آتی ہے کہ کہاں تک میں بار بارلکھوں ۔ اے قوم کے چمکتے ہوئے ستارو! اور معزز بزرگو! خدا آپ لوگوں کے دلوں کو الہام کرے۔ خدا کے لئے اس طرف توجہ کرو۔ اگر مجھے اس بات کا علم ہوتا کہ میری اس تحریر کے پڑھنے کے وقت فلاں فلاں اعتراض آپ کے دل میں گذرے گا تو میں ان اعتراضوں کو پہلے سے ہی دفع کر دیتا۔ اور اگر میرے پاس وہ الفاظ ہوتے جو آپ صاحبوں کو اس مدعا کی طرف لے آتے تو میں وہی الفاظ استعمال کرتا۔ ہائے افسوس ہم کیا کریں اور کس طرح اس خوفناک تصویر کو دلوں کے آگے رکھ دیں جو ہمیں طاعون سے زیادہ اور ہیضہ سے بڑھ کر رُعب ناک معلوم ہوتی ہے۔ اے خدا تو آپ دلوں میں