البلاغ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 399 of 630

البلاغ — Page 399

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۹۹ البلاغ ۔ فریا د درد کام کو انجام دے سکتا ہے۔ میں اس قدر خدمت اپنے ذمہ لے لیتا ہوں کہ ہر ایک صاحب (۳۱) اس بارے میں اپنی اپنی رائے تحریر کر کے میرے پاس بھیج دیں۔ میں ان تمام تحریروں کو جمع کرتا جاؤں گا اور جب وہ سب تحریریں جمع ہو جائیں گی تو میں ان کو ایک رسالہ کی صورت میں چھاپ دوں گا اور پھر وہ امر جو کثرت رائے سے قرار پاوے اسی کو اختیار کیا جائے گا۔ اور ہر ایک پر لازم ہوگا کہ کثرت رائے کے پیرو ہو کر بچے دل سے اس کام میں حتی الوسع مالی مدد دیں۔ اور اس رائے کے لائق وہی صاحب سمجھے جائیں گے جو مالی مدد کے دینے کے لئے طیار ہوں ۔ مگر رائے لکھنے کے وقت ہر ایک صاحب کو چاہیے کہ اس اہل علم کا نام تصریح سے لکھیں جس کو یہ نازک کام تالیف کا سپر د کیا جائے گا۔ شاید بعض صاحب اس رائے کو اختیار کریں کہ کئی صاحب علم اس کام کے لئے متوجہ ہوں اور مل کر کریں۔ لیکن یہ میچ نہیں ہے۔ ایسے امور میں تالیفات کا تداخل ضرررساں ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات نزاع اور کینہ تک نوبت پہنچتی ہے۔ ہاں جو شخص در حقیقت لائق اور صاحب معلومات ہوگا اس کو اگر کوئی ضرورت ہوگی تو وہ خود اپنے چند مددگار خدام کی طرح یدا کرسکتا ہے۔ کمیٹی کی تجویز کے نیچے یہ بات آ نہیں سکتی بلکہ ایسی قہری ترکیب سے کئی فتنوں کا احتمال ہے۔ جب تک صرف ایک شخص اس کام کا مدارالمہام مقرر نہ کیا جائے تب تک خیر و خوبی سے کوئی کام انجام پذیر نہیں ہوسکتا۔ ہاں وہ مدارالمہام جس قدر مناسب سمجھے اپنی منشاء اور طرز تالیف کے مطابق اوروں سے مواد تالیف جمع کرنے کے لئے کوئی خدمت لے سکتا ہے اور اس کام کے لئے ایک عملہ مقرر کر سکتا ہے۔ یہ غور کے لائق باتیں ہیں اور مجھے زیادہ تر یہی خوف ہے کہ اس پر چہ کو جو خون جگر سے لکھا گیا ہے یونہی لا پروائی سے پھینک نہ دیا جائے یا جلدی سے اس پر رائے لگا کر اس کو رڈی اور فضول بستوں میں نہ ڈال دیا جائے اس لئے میں اس بے قرار کی طرح جو ہر طرف ہاتھ پیر مارتا ہے اپنے معزز مخاطبین کو جو اپنی عزت اور امارت اور عالی ہمتی کی وجہ سے