البلاغ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 400 of 630

البلاغ — Page 400

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۰۰ البلاغ ۔ فریا د درد فخر اسلام میں اس خدائے عز و جل کی قسم دیتا ہوں جس کی قسم کو کبھی انبیاء علیہم السلام نے بھی رد نہیں کیا کہ اپنی رائے سے جو سراسر دینی ہمدردی پر مشتمل ہو مجھے ضرور ممنون فرمائیں گو کم فرصتی کی وجہ سے دو چار سطر ہی لکھ سکیں لیکن اس تمام مضمون کو پڑھ کر تحریر فرماویں۔ میں امید رکھتا ہوں کہ جس قدر اسلام کے بچے ہمدرد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت رکھنے والے ہیں وہ ایسی رائے کے لکھنے سے جس میں قوم کی بھلائی اور ہزار ہا فتنوں سے نجات ہے دریغ نہیں فرمائیں گے۔ لیکن یادر ہے کہ اس رائے میں تین امر کی تشریح ضرور چاہیے۔ (۱) اول یہ کہ وہ اپنی دانست میں کس کو اس کام کے لئے منتخب کرتے ہیں۔ اور اس بزرگ کا نام کیا ہے اور کہاں کے رہنے والے ہیں۔ (۲) دوم یہ کہ وہ خود اس عظیم الشان کام کے انجام دینے کے لئے کس قدر مدد دینے کو طیار ہیں۔ (۳) سوم یہ کہ یہ رقم کثیر جو اس کام کے لئے جمع ہوگی وہ کہاں اور کس جگہ مدامانت میں رکھی جائے گی اور وقتا فوقتا کس کی اجازت سے خرچ ہوگی۔ یہ تین امر ضروری التفصیل ہیں۔ اس جگہ ایک اور امر قابل ذکر ہے اور وہ یہ کہ شاید بعض صاحبوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہو کہ ممکن ہے کہ اس کام میں دخل دینا گورنمنٹ عالیہ کے منشاء کے مخالف ہو تو میں ان کو یقین دلاتا ہوں کہ ہماری گورنمنٹ محسنہ جو ہماری جان اور مال کی حفاظت کر رہی ہے اس نے پہلے سے اشتہار دے رکھا ہے کہ وہ کسی کے دینی امور اور دینی تدابیر میں مداخلت نہیں کرے گی جب تک کوئی ایسا کاروبار نہ ہو جس سے بغاوت کی بد بو آ وے۔ ہماری محسن گورنمنٹ برطانیہ کی یہی ایک قابل تعریف خصلت ہے جس کے ساتھ ہم تمام دنیا کے مقابل پر فخر کر سکتے ہیں۔ بیشک ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اس گورنمنٹ محسنہ کے سچے دل سے خیر خواہ ہوں اور ضرورت کے وقت جان فدا کرنے کو بھی طیار ہوں ۔ لیکن ہم اس طرح پر بھی غیر قوموں اور غیر ملکوں میں اپنی محسن گورنمنٹ کی نیک نامی پھیلانی چاہتے ہیں کہ کس طرح اس عادل گورنمنٹ نے دینی امور میں ہمیں پوری آزادی دی ہے۔ عملی نمونے ہزاروں کوسوں