البلاغ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 392 of 630

البلاغ — Page 392

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۹۲ البلاغ - فریاد درد ایک معمولی بات ہے کمال میں داخل نہیں۔ کمال انسانیت یہ ہے کہ ہم حتی الوسع گالیوں کے مقابل پر اعراض اور درگذر کی خواختیار کریں۔ یہ بھی تو سوچو کہ پادری صاحبوں کا مذہب ایک شاہی مذہب ہے۔ لہذا ہمارے ادب (۲۴) کا یہ تقاضا ہونا چاہیے کہ ہم اپنی مذہبی آزادی کو ایک طفیلی آزادی تصور کریں اور اس طرح پر ایک حد تک پادری صاحبوں کے احسان کے بھی قائل رہیں ۔ گورنمنٹ اگر ان کو باز پرس کرے تو ہم کس قدر باز پرس کے لائق ٹھہریں گے۔ اگر سبز درخت کاٹے جائیں تو پھر خشک کی کیا بنیاد ہے۔ کیا ایسی صورت میں ہمارے ہاتھ میں قلم رہ سکے گی؟ سو ہوشیار ہو کر طفیلی آزادی کو غنیمت سمجھو اور اس محسن گورنمنٹ کو دعائیں دو جس نے تمام رعایا کو ایک ہی نظر سے دیکھا۔ یہ بالکل نامناسب اور سخت نا مناسب ہے کہ پادریوں کی نسبت گورنمنٹ میں شکایت کریں۔ ہاں جو شبہات اور اعتراض اٹھائے گئے اور جو بہتان شائع کئے گئے ان کو جڑ سے اکھاڑنا چاہیے اور وہ بھی نرمی سے اور حق اور حکمت کے معاون ہو کر دنیا کو فائدہ پہنچانا چاہیے اور ہزاروں دلوں کو شبہات کے زندان سے نجات بخشا چاہیے۔ یہی کام ہے جس کی اب ہمیں اشد ضرورت ہے۔ یہ بیچ ہے کہ مسلمانوں نے تائید اسلام کے دعوے پر جابجا انجمنیں قائم کر رکھی ہیں۔ لاہور میں بھی تین انجمنیں ہیں۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ باوجودیکہ عیسائیوں کی طرف سے دس کروڑ کے قریب مخالفانہ کتا بیں اور رسائل نکل چکے ہیں اور تین ہزار کے قریب ایسے اعتراضات شائع ہو چکے جن کا جواب دینا مولویوں اور ان انجمنوں کا فرض تھا جنہوں نے ہر ایک رسالہ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہم مخالفوں کے سوالات کے جواب دیں گے ان حملوں کا ان انجمنوں نے کیا بندو بست کیا اور کون کونسی مفید کتاب دنیا میں پھیلائی ۔ ہم بقول ان کے کا فرسہی ، دجال سہی ، سخت گوسہی مگر ان لوگوں نے باوجود ہزار ہا روپیہ اسلام کا جمع کرنے کے اسلام کی حقیقی مدد کیا کی ۔ علوم مروجہ کی تعلیم کا شاید بڑے سے بڑا نتیجہ یہ ہوگا کہ تا لڑ کے تعلیم پا کر کوئی معقول نوکری پاویں۔ اور یتیموں کی پرورش کا نتیجہ بھی اس سے بڑھ کر