البلاغ — Page 393
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۹۳ البلاغ ۔ فریا د درد کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ بچے مسلمان ہونے کی حالت میں بالغ اور معمولی طور کے خواندہ ہو جائیں۔ مگر آگے جو کروڑ ہا قسم کے دام تزویر بالغوں کی راہ میں بچھے ہوئے ہیں ان سے بچنے کی کوئی تدبیر نہیں بتلائی گئی۔ کیا کوئی بیان کر سکتا ہے کہ کسی انجمن نے ان سے محفوظ رہنے کا کیا (۲۵) بندو بست کیا ؟ بلکہ اگر ایسی ہی تعلیم ہے جس میں مخالفوں کے تمام حملوں سے اکمل اور اتم طور پر خبر دار نہیں کیا جاتا اور یتیموں کی ایسی ہی پرورش ہے کہ ان کو جوان اور بالغ کر دینا ہی بس ہے تو یہ تمام کام اسلام کے دشمنوں کے لئے ہے نہ اسلام کے لئے ۔ اگر اسلام کے لئے یہ کام ہوتا تو سب سے پہلے اس بات کا بندوبست ہونا چاہیے تھا کہ یہ اعتراضات عیسائیت اور فلسفہ اور آریہ مت اور بر ہمو سماج کے جن کی میزان تین ہزار تک پہنچ گئی ہے نہایت صفائی اور تحقیق اور تدقیق سے ان کا جواب شائع کیا جاتا اور صرف یہ کافی نہیں کہ امہات مومنین کے چند ورق کا جواب لکھا جاوے بلکہ لازم ہے کہ پادریوں کی شصت سالہ کارروائی اور ایسا ہی وہ تمام فلسفی اور طبعی اعتراضات جو اس کے ساتھ قدم بقدم چلے آئے ہیں اور ایسا ہی آریہ سماج کے اعتراض جو نئے انقلاب سے ان کو سو جھے ہیں ان تمام اعتراضات کی ایک فہرست تیار ہو اور پھر ترتیب وار کئی جلدوں میں اس خس و خاشاک کو سچائی کی ایک روشن اور افروختہ آتش سے نابود کر دیا جائے۔ یہ کام ہے جو اس زمانہ میں اسلام کے لئے کرنا ضروری ہے۔ یہی وہ کام ہے جس سے نئی ذریت کی کشتی غرق ہونے سے بیچ رہے گی اور یہی وہ کام ہے جس سے اسلام کا روشن اور خوبصورت چہرہ مشرق اور مغرب میں اپنی چمک دکھلائے گا۔ اس کام کے یہ امور ہرگز قائم مقام نہیں ہو سکتے کہ تیموں کی پرورش کی جائے یا علوم مروجہ یا کسی اور کسب کی ان کو تعلیم دی جائے یا بگفتن رسم اور عادت کے طور پر اسلام کے احکام اور ارکان ان کو سکھلائے جائیں۔ وہ لوگ جو اسلام سے مرتد ہو کر عیسائیوں میں جا ملے ہیں جو غالباً ایک لاکھ کے قریب پنجاب اور ہندوستان میں موجود ہوں گے کیا وہ اسلام کے احکام اور ارکان سے بے خبر تھے؟ کیا ان کو اتنی بھی تعلیم نہیں ملی تھی جواب انجمن حمایت اسلام لاہور یتیموں اور