آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 71
روحانی خزائن جلده آئینہ کمالات اسلام چکا ہو اور ایسی ایک زبر دست کشش سے کھینچا گیا ہو جو نہیں جانتا کہ اسے کیا ہو گیا اور نورانیت اے کا بشدت اپنے اندر انتشار پاوے جیسا کہ دن چڑھا ہوا ہوتا ہے اور صدق اور محبت اور وفا کی نہریں بڑے زور سے چلتی ہوئی اپنے اندر مشاہدہ کرے اور لمحہ بہ لحہ ایسا احساس کرتا ہو کہ گویا خدا تعالیٰ اُس کے قلب پر اُترا ہوا ہے۔ ۔ یہ حالت اپنی تمام علامتوں کے ساتھ محسوس ہو تب خوشی کرو اور محبوب حقیقی کا شکر بجالاؤ کہ یہی وہ انتہائی مقام ہے جس کا نام لقا رکھا گیا ہے ۔ اس آخری مقام میں انسان ایسا احساس کرتا ہے کہ گویا بہت سے پاک بانیوں سے اُس کو دھو کر اور نفسانیت کا بکی رگ وریشہ اس سے الگ کر کے نئے سرے اُس کو پیدا کیا گیا اور پھر رب العالمین کا تخت اس کے اندر بچھایا گیا اور خدائے پاک و قدوس کا چمکتا ہوا چہرہ اپنے تمام دلکش حسن و جمال کے ساتھ ہمیشہ کیلئے اُس کے سامنے موجود ہو گیا ہے مگر ساتھ اس کے یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ دونوں آخری درجہ بقا اور لقا کے کسی نہیں ہیں بلکہ وہی ہیں اور کسب اور جد و جہد کی حد صرف فنا کے درجہ تک ہے اور اسی حد تک تمام راست باز سالکوں کا سیر و سلوک ختم ہوتا ہے اور دائرہ کمالات انسانیہ کا اپنے استدارت تامہ کو پہنچتا ہے اور جب اس درجہ فنا کو پاک باطن لوگ جیسا کہ چاہئے طے کر چکتے ہیں تو عادت الہیہ اسی طرح پر جاری ہے کہ بیک دفعہ عنایت الہی کی نسیم چل کر بقا اور لقا کے درجہ تک انہیں پہنچا دیتی ہے۔ اب اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ اس سفر کی تمام صعوبتیں اور مشقتیں فنا کی حد تک ہی ہیں اور پھر اس سے آگے گذر کر انسان کی سعی اور کوشش اور مشقت اور محنت