آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 68
روحانی خزائن جلد ۵ ۶۸ آئینہ کمالات اسلام ۲۸) ان افعال سے کم رتبہ پر رہے گا جو خود خدا تعالی علانیہ اور بالجہر اپنی قوت کا ملہ سے ظہور میں لاتا ہے یعنی ایسا اقتداری معجزہ بہ نسبت دوسرے الہی کاموں کے جو بلا واسطہ اللہ جل شانہ سے ظہور میں آتے ہیں ضرور کچھ نقص اور کمزوری اپنے اندر موجود رکھتا ہوگا تا سرسری نگاہ والوں کی نظر میں تشابه فی الخلق واقع نہ ہو ۔ اسی وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا با وجود اس کے کہ کئی دفعہ سانپ بنالیکن آخر عصا کا عصا ہی رہا۔ اور حضرت مسیح کی چڑیاں باوجود یکہ معجزہ کے طور پر ان کا پرواز قرآن کریم سے ثابت ہے مگر پھر بھی مٹی کے مٹی ہی تھے اور کہیں خدا تعالیٰ نے یہ نہ فرمایا کہ وہ زندہ بھی ہو گئیں اور ہمارے اقتداری معجزہ خدا تعالیٰ کے بلا توسط کاموں سے کم درجہ پر رہتا ہے کے مرتبہ پر اقتداری نشان اہل اله صلی اللہ علیہ وسلم کے اقتداری خوارق میں چونکہ طاقت الہی سب سے زیادہ بھری ہوئی تھی کیونکہ وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تجلیات الہیہ کیلئے اتم واعلیٰ وارفع و اکمل نمونہ تھا اس لئے ہماری نظریں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقتداری خوارق کو کسی درجہ بشریت پر مقرر کرنے سے قاصر ہیں مگر تا ہم ہمارا اس پر ایمان ہے کہ اس جگہ بھی اللہ جل شانہ اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل میں مخفی طور پر کچھ فرق ضرور ہوگا۔ اب ان تحریرات سے ہماری غرض اس قدر ہے کہ لقا کا مرتبہ جب کسی انسان کو میسر آتا ہے تو اس مرتبہ کے تموج کے اوقات میں الہی کام ضرور اس سے صادر ہوتے ہیں اور ایسے شخص کی گہری صحبت میں جو شخص ایک حصہ عمر کا بسر کرے تو ضرور کچھ نہ کچھ یہ اقتداری خوارق مشاہدہ کرے گا کیونکہ اس تموج کی حالت میں کچھ الہی صفات کا رنگ خلی طور پر انسان میں آجاتا ہے یہاں تک کہ اس کا رحم خدا تعالیٰ کا رحم اور اس کا غضب خدا تعالی کا غضب ہو جاتا ہے اور بسا اوقات وہ بغیر کسی دعا کے کہتا ہے کہ فلاں چیز پیدا ہو جائے تو وہ پیدا ہو جاتی ہے اور کسی پر غضب کی نظر سے دیکھتا ہے تو اس پر کوئی