آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 710 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 710

پادریوں کو دعوت مقابلہ ۲۷۷،۲۸۴ پادریوں کا مدت سے الہام پر مُہر لگانا ۲۸۴ پادریوں کے فتنہ کے حد سے زیادہ بڑھنے پر خدا کا اپنے ایک بندہ کو بھیجنا ۴۲۴ اسلام پر ان کے حملے اور مسلمانوں کی غفلت ۱۳،۱۴ پادری ہی دجال ہیں ۴۶۰ ف، ق، ک، گ فرشتے دیکھئے ’’ملائک‘‘ فطرت انسانی فطرت خدائی کی طاقتیں پیدا نہیں کر سکتی ۲۳۷ح القاء اور الہام برعایت فطرت ہوتا ہے ۱۸۶ح ہر شخص فطرتی نور کی وجہ سے کچھ نہ کچھ روح القدس کی چمک اپنے اندر رکھتا ہے ۹۶ فلسفہ فلسفہ کے خیالات کی بنیاد ہی غلط ہے ۱۹۸ح ایمان کا ایک ذرہ فلسفہ کے ہزار دفتر سے بہتر ہے ۲۷۲ح خدا کے متعلق فلسفیوں کے خیالات ۲۴۴ح مغربی فلسفیوں کے اقوال میں خدائی کا دعویٰ ۳۴۴ فلسفہ موجودہ ثابت شدہ صداقتوں کے مقابل پر مُردہ اور بے طاقت ہے ۲۴۲ح فلسفہ قرآن کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ۲۵۷ح فلسفہ کا کمال دہریت ہے ۲۴۳ح فلسفہ کے علم کا انتہائی معراج ۲۴۴ح یہ ہمیشہ ایمان سے لاپروا رہے ہیں ۲۵۲ح اس زمانہ کا فلسفہ اسلام پر غالب نہیں آ سکتا ۲۵۵ح اس زمانہ کے فلسفہ کی بلا یونانیوں کے علوم کے اسلامی ممالک میں پھیلنے سے ہزارہا درجہ شدید ہے ۲۶۳ح اس زمانہ کے فلسفیوں کا انا الرّب ہونے کا دعویٰ ۵۳ فنا فنا کی تعریف ۶۳ اس درجہ تک پہنچنے کا طریق ۱۹۶ پہلی ہستی فنا کئے بغیر نئی ہستی نہیں مل سکتی ۲۳۳ کسب اور جدوجہد صرف اس درجہ تک ہے ۷۱ اس درجہ کے بعد بقا اور لقا کا درجہ بلاتوقف ہے ۶۹ اسلم وجھہ کے درجہ کو صوفی فنا اور قرآن استقامت کے اسم سے موسوم کرتا ہے ۶۹ فیج اعوج اسلام کا درمیانی زمانہ فیج اعوج ہے ۲۱۱ احادیث کی رو سے فیج اعوج کا ذکر ۲۱۵ فیصلہ دنیا کے اکثر فیصلے قیل و قال سے ہوتے ہیں ۳۵۶ قدرت اللہ کی قدرت اور طاقت کا مفہوم ۱۶۱ح ح قدرت کاملہ سرعت اور بطو دونوں شقوں کو چاہتا ہے ۱۷۰ ح ح کامل القدرت شخص سے مراد ۱۶۴ح ح قرآن شریف تیئیس سال میں نازل ہوا ۳۰۶ قرآن کے نزول کی علت غائی ۱۳۹ قرآن کے اتارنے سے اللہ کا مقصد ۱۲۸ خدا کی کتاب پر مستحکم ایمان کا طریق ۳۸ خدا نے اپنی کتاب کا وارث اپنے برگذیدہ بندوں کو کیا ہے جو تین قسم کے گروہ ہیں ۱۲۹ تا ۱۳۳ قادیان میں سکھوں کے دور میں قرآن کے ۵۰۰ نسخے جلا دیے گئے ۵۰۷ قرآن کی تعلیم پر مخالفین کے اس اعتراض کا جواب کہ خدا نے شیطان کو دانستہ انسان کے پیچھے لگا رکھا ہے ۸۲ح اس اعتراض کا جواب کہ قرآنی قصے نبی کریمؐ نے یہود ونصاریٰ سے سن کر قرآن میں درج کیے ۲۳۵ح کمال اس کا حرف حرف قطعی اور متواتر اور یقینی الصحت ہے ۲۲۸ح