آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 709
علم و معرفت حقیقت اسلامیہ کے حصول کا ذریعہ ہے ۱۷۸ اہلِ بادیہ کا خاص ایام میں نبی کریمؐ کے پاس آنا ۶۰۸ کوئی علم واقعات صحیحہ پر غالب نہیں آ سکتا ۲۴۲ح اس زمانہ میں مذہب اور علم کی لڑائی ۲۵۴ح،۲۶۲ح انسان کو چاہیئے کہ وہ مسائل صحیحہ کا معلم ہو ۲۵۹ح علماء علماء انبیاء کے وارث ہیں ۵۴۰ ان میں ایسے سعید کم ہیں جنہوں نے مقبولانِ درگاہِ الٰہی کو وقت پر قبول کیا ۳۴ اس زمانہ کے صالح علماء کی تعریف ۸ اس زمانہ کے علماء کی بدحالت ۵تا ۸،۴۶تا۴۸ علماء کی دنیا اور اس کی زینت سے محبت اور ترکِ تقویٰ ۱۵ حضورؑ کی دعوت کا انکار اور بے سوچے سمجھے تکفیر کرنا ۷ مخالف علماء کے حق میں حضورؑ کی دعا ۲۲ اکثر صرف ظاہر اور مجاز پر قناعت کرنے والے ہیں ۳۶ ان کے دلوں میں وہم پرستی کے بُت ہیں ۳۶ آخری زمانہ کے علماء کا گمراہ ہونا قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ہے ۶۰۵ وہ علماء جنہوں نے عیسائیت اختیار کی اوراسلام پر حملے کیے ۱۵ بد علماء حبشی کے بیت اللہ پر حملہ آور ہونے کی طرح مجھ پر حملہ آور ہوئے ۱۰ ان کا یہودیوں سے مشابہت اختیار کرنا ۳۴،۴۷،۴۹ ان کا عیسائیوں کی مشرکانہ تعلیم میں مدد دینا ۴۱ یہ لوگ چھپے ہوئے رسول اللہؐ کے دشمن ہیں ۱۱۱ ان کا ملائک کے اترنے اور آسمان پر جانے کے متعلق عقیدہ ۹۳ ان کا کسی کو کافر ٹھہرانے میں ترقی کرنا ۳۱،۳۳ مشائخ ، اکابر اور ائمہ وقت کی کتابوں کے بعض حقائق نہ سمجھ میں آنے کی وجہ سے انہیں دائرہ اسلام سے خارج کرنا ان کی قدیم سے عادت ہے ۳۳ تمام علماء کا بلا تفتیش کفرنامہ پر مہر لگانااور اُن پر اظہار افسوس ۳۲ مکفرین علماء کا اشعار میں ذکر ۲۸ ناشکری کی وجہ سے میرے سابقہ رسائل میں حقائق قرآنیہ دیکھ کر ان کا شور و غوغا کرنااور انہیں کلماتِ کفر قرار دینا ۳۰ نبی کریمؐ کے تذکرہ کے ساتھ طعنہ زنی کرنے والے علماء کا ذکر کرنے کے دو اسباب ۹،۲۲ ان کی گستاخی اور بے ادبی کہ آنحضرتؐ سے روح القدس جدا ہو جاتا تھا مگر مسیح ابن مریم سے نہیں ۷۵، ۱۰۴، ۱۱۰ نواب صدیق حسن خان صاحب کا حدیث کے موافق اس زمانہ کے علماء کو بدترین مخلوق کہنا ۳۰۱ عیسائیت مسیح کی حیات عیسائی مذہب کا ایک ستون ہے ۴۱ عیسائی مذہب اور قوم ہی دجال ہے ۲۵۴،۲۶۹ عیسائیوں کا دنیاوی علوم میں کمال ترقی حاصل کرنا ۳۶۹ اس زمانہ میں عیسائیوں کی دجالیت کا کمال تک پہنچنے کا ثبوت ۳۴۵ عیسائیوں کے دعویٰ نبوت اور الوہیت کی تفصیل ۳۷۱ ان میں دجالی خیالات کے پھیلانے کا جوش ۳۴۷ ان میں دجالیت کے صفت کے اتم طور پر آنے پر مسیح کی روحانیت کا نزول کے لئے جوش میں آنا ۳۴۳ نفسانیت کی تنگ قبروں میں مرے ہوئے ہیں ۲۰۳ح عیسائیت کا چار قسم کی موت میں مبتلا ہونا ۲۰۴ح یہ مردہ اور شرک کے گڑھے میں پڑے ہوئے ہیں ۲۲۳ ایک فرقہ کا انجیل کو توڑنا مروڑنا ۳۴۵ چھ کروڑ کتابیں تالیف کرنا ۳۴۵ تھوڑے عرصہ میں ایک لاکھ لوگوں کا عیسائیت اختیار کرنا ۵۱ کشفاً ظاہر ہونا کہ عیسائیوں کی ضلالت کی خبر سن کر حضرت عیسیٰ ؑ کی روح روحانی نزول کے لئے حرکت میں آئی ۲۵۴ عیسائیوں کے تعدد ازدواج پر اعتراض کا جواب ۲۸۲ پادریوں کا مخالفت کے جوش میں پچاس پچاس برس کے ہو کر عربی زبان کو سیکھنا اور قرآن کے معانی پر اطلاع پانا ۳۶۰