آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 674 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 674

صفحہ ۶۴۵۔میری جان ودل محمدؐ کے جمال پر فدا ہیں اور میری خاک آلِ محمدؐ کے کوچے پر قربان ہے۔میں نے دل کی آنکھوں سے دیکھا اور عقل کے کانوں سے سنا۔ہر جگہ محمدؐ کے جلال کا شہرہ ہے۔معارف کا یہ دریائے رواں جو میں مخلوق خدا کو دے رہا ہوں یہ محمدؐ کے کمالات کے سمندر میں سے ایک قطرہ ہے۔یہ میری آگ محمدؐ کے عشق کی آگ کا ایک حصہ ہے اور میراپانی محمدؐ کے مصفا پانی میں سے لیا ہوا ہے۔اس نے معاملہ کو مختصر کر دیا ورنہ بہت بڑی درد سری تھی صفحہ ۶۴۶۔کوئی ظاہر پرست زاہد ہمارے حال سے واقف نہیں ہوسکتا اس لئے ہمارے متعلق تو جو کچھ بھی کہے برا منانے کی کوئی وجہ نہیں صفحہ ۶۴۹۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان میں ایک عجیب نور ہے محمدؐ کی کان میں ایک عجیب وغریب لعل ہے۔دل اُس وقت ظلمتوں سے پاک ہوتا ہے جب وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دوستوں میں داخل ہو جاتا ہے۔میں اُن نالایقوں کے دلوں پر تعجب کرتا ہوں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان سے منہ پھیرتے ہیں۔دونوں جہان میں مَیں کسی شخص کو نہیں جانتا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سی شان وشوکت رکھتا ہو۔خدا اُس شخص سے سخت بیزار ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کینہ رکھتا ہو۔خدا خود اس ذلیل کیڑے کو جلا دیتا ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں میں سے ہو۔اگر تو نفس کی بد مستیوں سے نجات چاہتا ہے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مستانوں میں سے ہو جا۔اگر تو چاہتا ہے کہ خدا تیری تعریف کرے تو تہ دل سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مدح خواں بن جا۔اگر تو اُس کی سچائی کی دلیل چاہتا ہے تو اُس کا عاشق بن جا کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی خود محمد کی دلیل ہے۔میرا سر احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خاک پا پر نثار ہے اور میرا دل ہر وقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان رہتا ہے۔رسول اللہ کی زلفوں کی قسم کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نورانی چہرے پر فدا ہوں۔اس راہ میں اگر مجھے قتل کر دیا جائے یا جلا دیا جاوے تو پھر بھی میں محمدؐ کی بارگاہ سے منہ نہیں پھیروں گا