آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 670 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 670

۔اگر تو عقلمند ہے تو جا اور پہلے اپنی جان کی فکر کر ایمان کا دعویٰ کچھ چیز نہیں نور ایمان لا۔کب تک تو تکفیر پر ناز کرے گا اور کب تک تمسخر کرتا رہے گا۔جا اپنے آپ کو اپنے ایمان پر اور ہم کو ہمارے کفر پر چھوڑ دے۔مجھ سے نہ تو جنت کا ذکر کر نہ دوزخ کا میں تو محمد کے دین کے غم میں دیوانوں کی سی زندگی بسر کرتا ہوں۔اس وقت جبکہ مجھے دین کی مہم یاد آتی ہے تو دونوں جہان کی خوشیاں اور غم مجھے بالکل بھول جاتے ہیں صفحہ ۳۲۔اے وہ شخص کہ میں تیری نظر میں دجال اور گمراہ ہوں تو خدائے ذوالجلال سے کیوں نہیں ڈرتا۔تو مومن کا نام کافر رکھتا ہے اگر تو اس عقیدہ کے باوجود مومن ہے تو واقعی میں کافر ہوں صفحہ ۵۵۔محبت کے درختوں کو اپنی آنکھوں کے پانی سے سیراب کرتا کہ ایک دن وہ تجھے شیریں پھل دیں۔اسلام کا چاند اپنے اندر بہت سی حقیقتیں رکھتا ہے۔ظاہر بینوں کو اس چاند (کی خوبیوں ) کی کیا خبر ہوسکتی ہے۔میں اس یار کی طرف سے آیا ہوں کہ مخلوق کو یہ چاند دکھاؤں اگر آج تو مجھے نہیں دیکھے گا تو ایک روز حسرت کا دن دیکھے گا۔اگر میری شان تیری آنکھوں سے پوشیدہ ہے تو بھی خاموش رہ۔کہ بد پرہیز بیمار تندرستی کا منہ نہیں دیکھتا۔چونکہ تجھے معرفت کی آنکھ اور نور عرفان نہیں دیا گیا اس لئے تو نے عاشقانِ اسلام کا نام کافر رکھ دیا ہے۔اے بیوقوف ہم درگاہِ مصطفوی سے کہاں بھاگ کر جائیں کیونکہ ہم کسی اور جگہ یہ عزت اور دولت نہیں پا سکتے۔الحمد للہ کہ اس قوم نے خود ہی مجھ سے قطع تعلق کر لیا اور خدا نے مہربانی اور کرم سے خلوت میسر کر دی۔۔ان چہروں کے دیکھنے سے میں کس قدر تکلیف پاتا تھا مجھے اپنے دلبر پر ناز ہے کہ اس نے پھر مجھے جنت عطا کی۔تو اس قرب کی وجہ سے جو مجھے دلدار سے حاصل ہے کیوں جلتا ہے اگر تیرے ہاتھ میں زور ہے تو قسمت کے رزق کو بند کر دے۔اس کا مقدس دامن تکبر سے ہاتھ نہیں آتا۔اس کے ہاں اسی کو عزت ملتی ہے جو لباس عزت جلا دیتا ہے۔اگر مولا کی راہ چاہتا ہے تو علم کی شیخی ترک کر کہ اس کے کوچہ میں ا ِسیر کبر ونخوت کو گھسنے نہیں دیتے