آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 656 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 656

روحانی خزائن جلد۵ ۶۵۴ آئینہ کمالات اسلام میں سے مل گیا۔ پھر شیخ صاحب تو حوالات میں ہو چکے تھے لیکن ان کے بیٹے جان محمد کی طرف سے شاید محمد بخش کے دستخط سے جو ایک شخص ان کے تعلق داروں میں سے سے کئی خط اس عاجز کے نام دعا کیلئے آئے اور اللہ جل شانہ جانتا ہے کہ کئی راتیں نہایت مجاہدہ سے دعائیں کی گئیں اور اوائل میں صورت قضا و قدر کی نہایت پیچیدہ اور مبرم معلوم ہوتی تھی لیکن آخر خدا تعالیٰ نے دعا قبول کی اور ان کے بارے میں رہا ہونے کی بشارت دیدی اور اس بشارت سے ان کے بیٹے کو مختصر لفظوں میں اطلاع دی گئی۔ یہ تو اصل حقیقت اور اصل واقعہ ہے لیکن پھر اس کے بعد سنا گیا کہ شیخ صاحب اس رہائی کے خط سے انکار کرتے ہیں جس سے لوگ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ گویا اس عاجز نے جھوٹ بولا ۔سواس فتنہ کے دور کرنے کی غرض سے اس عاجز نے شیخ صاحب سے اپنا خط طلب کیا جس میں ان کی بریت کی خبر دی گئی تھی مگر انہوں نے وہ خط نہ بھیجا بلکہ اپنے خط ۱۹ار جون ۱۸۹۲ء میں میرے خط کا گم ہو جانا ظاہر کیا۔ لیکن ساتھ ہی اپنے بیٹے جان محمد کی زبانی یہ لکھا کہ قطعیت بریت کا خبر دینا ہمیں یاد نہیں مگر غالبا محط کے یہ الفاظ یا اس کے قریب قریب تھے کہ فضل ہو جائے گا دعا کی جاتی ہے۔ ہم یہ قصہ تو یہاں تک رہا اور وہ خط شیخ صاحب کا میرے پاس موجود پڑا ہے لیکن اب بعض دوستوں کے خطوط اور بیانات سے معلوم ہوا که شیخ صاحب یہ مشہور کرتے پھرتے ہیں کہ ہمیں رہائی کی کوئی بھی اطلاع نہیں دی تھی ۔ اور نہ صرف اسی قدر بلکہ اس عاجز پر ایک اور طوفان باندھتے ہیں اور وہ یہ کہ گویا یہ عاجز یہ تو جانتا تھا کہ میں نے کوئی خط نہیں لکھا مگر شیخ صاحب کو جھوٹ بولنے کے لئے تحریک دے کر بطور بیان دروغ ان سے یہ لکھوانا چاہا کہ اس عاجز نے رہائی کی خبر دے دی تھی گویا اس عاجز نے کسی خط میں شیخ صاحب کی خدمت میں یہ لکھا ہے کہ اگر چہ یہ بات صحیح اور واقعی تو نہیں کہ میں نے رہائی کی اطلاع قبل از وقت بطور پیشگوئی دی ہومگر میری خاطر اور میرے لحاظ سے تم ایسا ہی لکھ دو تا میری کرامت ظاہر ہو ۔ شیخ صاحب کا یہ طریق عمل سن کر سخت افسوس ہوا ۔ انا للہ و انا اليه راجعون ۔ خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ شیخ صاحب کے اول و آخر کے متعلق ضرور شیخ صاحب کو اطلاع دی گئی تھی اور وہ دونوں پیشگوئیاں صحیح ہیں اور دونوں کی نسبت شیخ ہلا یہ اس عاجز کا لفظ نہیں ہے کہ دعا کی جاتی ہے بلکہ یہ تھا کہ دعا بہت کی گئی۔ اور آخر فقرہ میں بر بہت اور فضل الہی کی بشارت دی گئی تھی وہ الفاظ اگر چہ کم تھے مگر قل و دل تھے۔ خدا تعالیٰ کسی کا محتاج اور خوشامد گرلوگوں کی طرح نہیں اس کی بشارتیں اکثر اشارات ہی ہوتے ہیں اس کا ہاں یا نہیں کہنا دوسرے لوگوں کے ہزار دفتر سے زیادہ معتبر ہے مگر نادان اور متکبر دنیا دار یہ چاہتے ہیں کہ خدا تعالی بھی فرمانبرداروں کی طرح لمبی تقریریں کرے تا ان کو یقین آوے اور پھر اس بات کو قلعی سمجھیں ۔ منہ