آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 40
روحانی خزائن جلد ۵ ۴۰ آئینہ کمالات اسلام میں محدود نہ تھیں اور یہ زمانہ بھی کوئی محدود زمانہ نہ تھا بلکہ ایسا وسیع تھا جس کا دامن قیامت تک پھیل رہا ہے اس لئے خداوند قدیر وحکیم نے قرآن کریم کو بے نہایت کمالات پر مشتمل کیا۔ ا اور قرآن کریم بوجہ اپنے ان کمالات کے جن میں سے کوئی دقیقہ خیر کا باقی نہیں رہا تھا ہر یک زمانہ کے فساد کا کامل طور پر تدارک کرتا رہا چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بڑا کام قرآن کریم کا خلق اللہ کے اصولوں کی اصلاح تھی سو اس نے تمام دنیا کو صاف اور سیدھے اصول خدا شناسی اور حقوق عباد کے عطا کئے اور گم گشتہ توحید کو قائم کیا اور دنیا کے پر ظلمت خیالات کے مقابل پر وہ پر حکمت اور پر نور اور بایں ہمہ اعلیٰ درجہ کا بلیغ فصیح کلام پیش کیا جس نے تمام اس وقت کے موجودہ خیالات کو پاش پاش کر دیا اور حکمت اور معرفت اور بلاغت اور فصاحت اور تاثیرات قویہ میں ایک عظیم الشان معجزہ دکھلایا۔ پھر ایسا ہی ہر ایک وقت میں جب سی جب کسی قسم کی ظلمت جوش میں آتی گئی تو اسی پاک کلام کا نور اس ظلمت کا مقابلہ کرتا رہا۔ کیونکہ وہ پاک کلام ایک ابدی معجزہ اور مختلف زمانوں کی مختلف تاریکی کے اٹھانے کیلئے ایک کامل روشنی اپنے اندر لایا تھا لہذا وہ ہر ایک قسم کی تاریکی کو اپنے نور کی قوت سے رفع و دفع کرتا رہا یہاں تک کہ وہ زمانہ آگیا کہ جس میں ہم ہیں اور جیسا کہ قرآن کریم نے پیشگوئی کی تھی زمین نے ہمارے زمانہ میں وہ تمام تاریکیاں جو زمین کے اندر مخفی تھیں باہر رکھ دیں اور ایک سخت جوش ضلالت اور بے ایمانی اور بد استعمالی عقل کا بر پا ہو گیا ۔ یہ وہی طبائع زایغہ کا جوش ہے جس کو دوسرے لفظوں میں دجال کے نام سے موسوم کیا گیا تھا اور خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں خبر دی تھی کہ وہ عالی شان اور کامل کلام اس طوفان پر بھی غالب آئے گا ۔ سوضرور تھا کہ کلام الہی میں وہ سچا فلسفہ بھرا ہوا ہوتا جو حال کے دھوکہ دینے والے فلسفہ پر غالب آجاتا کیونکہ وہ ابدی اصلاحوں کیلئے آیا ہے وہ نہ تھکے گا۔ اور نہ درماندہ