آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 647
روحانی خزائن جلد۵ ۶۴۵ آئینہ کمالات اسلام وعدہ اس ناچیز کو دیا گیا ہے وہ ان پیشگوئیوں میں مندرج ہے۔ ضمیمه اخبار ریاض ہندا مرتسر مطبوعہ یکم مارچ ۱۸۸۶ء بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم دوسری وہ پیشگوئیاں جو بعض احباب یا عام طور پر کسی ایک شخص یا جان و دلم فدائے جمال محمد است خاکم نثار کو چہ آل محمد است بنی نوع سے متعلق ہیں اور ان میں سے ابھی کچھ کام باقی ہے اور دیدم بعین قلب و شنیدم بگوش بهوش در هر مکان ندائے جلال محمد است اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو وہ بقیہ بھی طے ہو جاوے گا۔ تیسری وہ این چشمه روان که بخلق خدا دهم یک قطره از بحر کمال محمد است پیشگوئیاں جو مذاہب غیر کے پیشواؤں یا واعظوں یا ممبروں سے این آتشم ز آتش مهر محمد لیست و این آب من ز آب زلال محمد است تعلق رکھتی ہیں اور اس قسم میں ہم نے صرف بطور نمونہ چند آدمی رساله سراج منیر مشتمل بر نشانہائے رب قدیر آریہ صاحبوں اور چند قادیان کے ہندوؤں کو لیا ہے جن کی نسبت یہ رسالہ اس احقر (مؤلف براہین احمدیہ) نے اس مختلف قسم کی پیشگوئیاں ہیں کیونکہ انہیں میں آجکل نئی نئی تیزی غرض سے تالیف کرنا چاہا ہے کہ تا منکرین حقیت اسلام و اور انکار اشد پایا جاتا ہے اور ہمیں اس تقریب پر یہ بھی خیال ہے مکذبین رسالت حضرت خیر الا نام علیه و آله الف الف سلام که خداوند کریم ہماری محسن گورنمنٹ انگلشیہ کو جس کے کی آنکھوں کے آگے ایک ایسا چمکتا ہوا چراغ رکھا جائے جس احسانات سے ہم کو تمام تر فراغت و آزادی گوشه خلوت میسر و کی ہر ایک سمت سے گوہر آبدار کی طرح روشنی نکل رہی ہے اور کنج امن و آسائش حاصل ہے ظالموں کے ہاتھ سے اپنی حفظ و بڑی بڑی پیشگوئیوں پر جو ہنوز وقوع میں نہیں آئیں مشتمل ہے حمایت میں رکھے اور روس منحوس کو اپنی سرگر دانیوں میں محبوس و چنانچه خود خداوند کریم جل شانہ وعزاسمہ نے جس کو پوشیدہ معکوس و مبتلا کر کے ہماری گورنمنٹ کو فتح ونصرت نصیب کرے بھیدوں کی خبر ہے۔ اس نا کارہ کو بعض اسرار مخفیہ و اخبار غیبیہ پر تاہم وہ بشارتیں بھی (اگر مل جائیں ) اس عمدہ موقع پر درج مطلع کر کے بار عظیم سے سبکدوش فرمایا حقیقت میں اسی کا فضل رسالہ کر دیں انشاء اللہ تعالیٰ اور چونکہ پیشگوئیاں کوئی اختیاری ہے اور اسی کا کام جس نے چار طرفہ کشاکش مخالفوں و موافقوں بات نہیں ہے تا ہمیشہ اور ہر حال میں خوشخبری پر دلالت کریں سے اس ناچیز کو خلاصی بخشی۔ ع۔ قصہ کو تہ کر دورنہ دردسر بسیار بود۔ اس لئے ہم با نکسار تمام اپنے موافقین و مخالفین کی خدمت میں اب یہ رسالہ قریب الاختتام ہے اور انشاء اللہ القدیر صرف چند عرض کرتے ہیں کہ اگر وہ کسی پیشگوئی کو اپنی نسبت نا گوار طبع ہفتوں کا کام ہے۔ اور اس رسالہ میں تین قسم کی پیشگوئیاں (جیسے خبر موت فوت یا کسی اور مصیبت کی نسبت ) پاویں تو اس ہیں ۔ اول وہ پیشگوئیاں کہ جو خود اس احقر کی ذات سے تعلق بندہ ناچیز کو معذور تصور فرماویں بالخصوص وہ صاحب جو باعث رکھتی ہیں یعنے جو کچھ راحت یا رنج یا حیات یا وفات اس ناچیز مخالفت و مغایرت مذہب اور بوجہ نامحرم اسرار ہونے کے حسن سے متعلق ہے یا جو کچھ تفصلات و انعامات الہیہ کا ظن کی طرف بمشکل رجوع کر سکتے ہیں جیسے منشی اندر من صاحب یہ رسالہ بعض مصالح کی وجہ سے اب تک کہ ۲۵ فروری ۱۸۹۳ء ہے چھپ نہیں سکا مگر متفرق طور پر اس کی بعض پیشگوئیاں شائع ہوتی رہی ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ بھی شائع ہوتی رہیں گی۔ منہ