آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 648 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 648

روحانی خزائن جلد۵ ۶۴۶ آئینہ کمالات اسلام مراد آبادی و پنڈت لیکھر ام صاحب پشاوری وغیرہ اور باوجود اس رحمت عام کے کہ جو فطرتی طور پر جن کی قضا و قدر کے متعلق غالبا اس رسالہ میں بقید خدائے بزرگ و برتر نے ہمارے وجود میں رکھی ہے وقت و تاریخ کچھ تحریر ہوگا۔ ان صاحبوں کی خدمت اگر کسی کی نسبت کوئی بات نا ملائم یا کوئی پیشگوئی وحشت ناک میں دلی صدق سے ہم گذارش کرتے ہیں کہ ہمیں بذریعہ الہام ہم پر ظاہر ہو تو وہ عالم مجبوری ہے جس کو ہم فی الحقیقت کسی کی بدخواہی دل میں نہیں بلکہ ہمارا غم سے بھری ہوئی طبیعت کے ساتھ اپنے رسالہ میں خداوند کریم خوب جانتا ہے کہ ہم سب کی بھلائی تحریر کریں گے۔ چنانچہ ہم پر خود اپنی نسبت اپنے بعض چاہتے ہیں اور بدی کی جگہ نیکی کرنے کو مستعد ہیں اور جدی اقارب کی نسبت اپنے بعض دوستوں کی نسبت بنی نوع کی ہمدردی سے ہمارا سینہ منور و معمور ہے اور اور بعض اپنے فلاسفر قومی بھائیوں کی نسبت کہ گویا سب کے لئے ہم راحت و عافیت کے خواستگار ہیں نجم الہند ہیں اور ایک دیسی امیر نو وارد پنجابی الاصل کی لیکن جو بات کسی موافق یا مخالف کی نسبت یا خود نسبت بعض متوحش خبریں جو کسی کے ابتلاء اور کسی کی ہماری نسبت کچھ رنجیدہ ہو تو ہم اس میں بکلی مجبور و موت و فوت اعزا اور کسی کی خود اپنی موت پر دلالت معذور ہیں۔ ہاں ایسی بات کے دروغ نگلنے کے بعد کرتی ہیں جو انشاء اللہ القدیر بعد تصفیہ لکھی جائیں گی جو کسی دل کے دُکھنے کا موجب ٹھہرے۔ ہم سخت لعن منجانب اللہ منکشف ہوئی ہیں۔ اور ہر ایک کے لئے ہم وطعن کے لائق بلکہ سزا کے مستوجب ٹھہریں گے ۔ دعا کرتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اگر تقدیر معلق ہو ہم قسمیہ بیان کرتے ہیں اور عالم الغیب کو گواہ رکھ کر تو دعاؤں سے بفضلہ تعالیٰ مل سکتی ہے۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ ہمارا سینہ سرا سر نیک نیتی سے بھرا ہوا ہے رجوع کرنے والی مصیبتوں کے وقت مقبولوں کی اور ہمیں کسی فرد بشر سے عداوت نہیں اور گو کوئی بدظنی طرف رجوع کرتے ہیں اور شوخیوں اور بے راہیوں کی راہ سے کیسی ہی بدگوئی و بد زبانی کی مشق کر رہا ہے سے باز آ جاتے ہیں۔ با این ہمہ اگر کسی صاحب پر کوئی اور نا خدا ترسی سے ہمیں آزار دے رہا ہے ہم پھر بھی ایسی پیشنگوئی شاق گذرے تو وہ مجاز ہیں کہ یکم مارچ اس کے حق میں دعا ہی کرتے ہیں کہ اے خدائے قادر ۱۸۸۶ء سے یا اس تاریخ سے جو کسی اخبار میں پہلی و تو انا اس کو سمجھ بخش اور ہم اس کو اس کے ناپاک خیال دفعہ یہ مضمون شائع ہو ٹھیک ٹھیک دو ہفتہ کے اندر اپنی اور نا گفتنی باتوں میں معذور سمجھتے ہیں کیونکہ ہم جانتے دستخطی تحریر سے مجھ کو اطلاع دیں تا وہ پیشگوئی جس کے ہیں کہ ابھی اس کا مادہ ہی ایسا ہے اور ہنوز اُس کی سمجھ ظہور سے وہ ڈرتے ہیں،اندراج رسالہ سے علیحدہ اور نظر اسی قدر ہے کہ جو حقائق عالیہ تک نہیں پہنچ سکتی۔ رکھی جاوے اور موجب دل آزاری سمجھ کر کسی کو اس پر زاہد ظاہر پرست از حال ما آگاه نیست مطلع نہ کیا جائے اور کسی کو اس کے وقت ظہور سے خبر نہ در حق ماہر چہ گوید جائے بیچ اکراہ نیست دی جائے۔