آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 640 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 640

روحانی خزائن جلد۵ ۶۳۸ آئینہ کمالات اسلام (۲) پانی خشک ہونے لگا اور کچھ کچھ دھندلا سا مجھے حق نظر آنا شروع ہوا اور رفتہ رفتہ باطنی بینائی درست ہوئی۔ مرزا صاحب کے سوا اور کئی بھائی اس جلسہ میں ایسے تھے کہ جن کو میں حقارت اور عداوت سے دیکھتا تھا اب ان کو محبت اور الفت سے دیکھنے لگا اور یہ حال ہوا کہ کل اہل جلسہ میں جو مرزا صاحب کے زیادہ محب تھے وہ مجھے بھی زیادہ عزیز معلوم ہونے لگے۔ بعد عصر مرزا صاحب نے کچھ بیان فرمایا جس کے سننے سے میرے تمام شبہات رفع ہو گئے اور آنکھیں کھل گئیں ۔ دوسرے روز صبح کے وقت ایک امرتسری وکیل صاحب نے اپنا عجیب قصہ سنایا جس سے مرزا صاحب کی اعلیٰ درجہ کی کرامت ثابت ہوئی۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ وکیل صاحب پہلے سنت جماعت مسلمان تھے۔ جب جوان ہوئے رسمی علم پڑھا تو دل میں بسبب مذہبی علم سے ناواقفیت اور علمائے وقت و پیرانِ زمانہ کے با عمل نہ ہونے کے شبہات پیدا ہوئے اور تسلی بخش جواب کہیں سے نہ ملنے کے باعث سے چند بار مذہب تبدیل کیا۔ حسنی سے شیعہ بنے وہاں بجز تب را بازی اور تعزیہ سازی کچھ نظر نہ آیا ۔ آریہ ہوئے چند روز وہاں کا مزا بھی چکھا۔ مگر لطف نہ آیا۔ بر ہمو میں شامل ہوئے۔ ان کا طریق اختیار کیا ۔ لیکن وہاں بھی مزا نہ پایا۔ نیچری بنے لیکن اندرونی صفائی یا خدا کی محبت ۔ کچھ نورانیت کہیں بھی نظر نہ آئی ۔ آخر مرزا صاحب سے ملے اور بہت بیبا کا نہ پیش آئے ۔ مگر مرزا صاحب نے لطف سے مہربانی سے کلام کیا۔ اور ایسا اچھا نمونہ دکھایا کہ آخر کار اسلام پر پورے پورے جم گئے اور نمازی بھی ہو گئے ۔ اللہ و رسول کے تابعدار بن گئے ۔ اب مرزا صاحب کے بڑے معتقد ہیں ۔ رات کو مرزا صاحب نے نواب صاحب سے کے مقام پر بہت عمدہ تقریر کی اور چند اپنے خواب اور الہام بیان فرمائے ۔ چند لوگوں نے صداقت الہام کی گواہیاں دیں جنکے رو بر ووہ الہام پورے ہوئے ۔ ایک صاحب نے صبح کو بعد نماز صبح عبداللہ صاحب غزنوی رحمتہ اللہ علیہ کا ایک خواب سنایا ۔ جبکہ عبداللہ صاحب محیر دی گاؤں میں تشریف ے نواب صاحب مالیر کوٹلہ جو اُس وقت مع چند اپنے ہمراہیان کے شریک جلسہ تھے ۔۱۲