آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 639 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 639

روحانی خزائن جلد ۵ ۶۳۷ آئینہ کمالات اسلام فمن تاب من بعد ظلمه و اصلح فان الله يتوب عليه ان الله غفور رحيم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کیفیت جلسه سالانه قادیان ضلع گورداسپوره تاریخ ۲۷ / دسمبر ۱۸۹۲ء بر مکان جناب مجد وقت مسیح الزمان مرزاغلام احمد صاحب سلمہ الرحمن اور اس پر بندہ کی رائے جو ملاقات مرزا صاحب موصوف اور معاینہ جلسہ اور اہل جلسہ کے بعد قائم ہوئی مرزا صاحب نے مجھے بھی باوجود یکہ ان کو اچھی طرح معلوم تھا کہ میں ان کا مخالف ہوں نہ صرف مخالف بلکہ بد گو بھی اور یہ مکر رسہ کر مجھ سے وقوع میں آچکا ہے جلسہ پر بلایا اور چند خطوط جن میں ایک رجسٹری بھی تھا بھیجے۔ اگر چہ پیشتر بسبب جہالت اور مخالفت کے میرا ارادہ جانے کا نہ تھا لیکن مرزا صاحب کے بار بار لکھنے سے میرے دل میں ایک تحریک پیدا ہوئی ۔ اگر مرزا صاحب اس قدر شفقت سے نہ لکھتے تو میں ہرگز نہ جاتا اور محروم رہتا۔ مگر یہ انہیں کا حوصلہ تھا ۔ آج کل کے مولوی تو اپنے سگے باپ سے بھی اس شفقت اور عزت سے پیش نہیں آتے ۔ میں ۲۷ / تاریخ کو دو پہر سے پہلے قادیان میں پہنچا۔ اس وقت مولوی حکیم نورالدین صاحب مرزا صاحب کی تائید میں بیان کر رہے تھے اور قریب ختم کے تھا۔ افسوس کہ میں نے پورا نہ سنا۔ لوگوں سے سنا کہ بہت عمدہ بیان تھا۔ پھر حامد شاہ صاحب نے اپنے اشعار مرزا صاحب کی صداقت اور تعریف میں پڑھے۔ لیکن چونکہ مجھے ہنوز رغبت نہیں تھی اور میرا دل غبار آلودہ تھا کچھ شوق اور محبت سے نہیں سنا۔ لیکن اشعار عمدہ تھے ۔ اللہ تعالیٰ مصنف کو جزائے خیر عنایت فرما دے۔ جب میں مرزا صاحب سے ملا اور وہ اخلاق سے پیش آئے تو میرا دل نرم ہوا گویا مرزا صاحب کی نظر سرمہ کی سلائی تھی جس سے غبار کدورت میرے دل کی آنکھوں سے دور ہو گیا اور غیظ و غضب کے نزلہ کا