آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 606
روحانی خزائن جلد۵ ۶۰۴ آئینہ کمالات اسلام ۲۰۴ آور میری نسبت بھی اور میرے معظم اور مکرم دوستوں کی نسبت بھی تو پھر ایسا شخص کسی قدر سزا کے لائق ہے کہ کذاب اور دجال تو آپ ہو۔ اور دوسروں کو خوہ نخواہ دروغ گوکر کے مشتہر کرے۔ اور یہ بات بھی یادر ہے کہ یہ عاجز در حقیقت نہایت ضعیف اور بیچ ہے۔ گویا کچھ بھی نہیں ۔ لیکن خدا تعالیٰ نے چاہا ہے کہ متکبر کا سرتوڑے اور اس کو دکھاوے کہ آسمانی مدد اس کا نام ہے۔ چند ماہ کا عرصہ ہوا ہے جس کی تاریخ مجھے یاد نہیں کہ ایک مضمون میں نے میاں محمد حسین کا دیکھا۔ جس میں میری نسبت لکھا ہوا تھا کہ یہ شخص کذاب اور دجال اور بے ایمان اور با ایں ہمہ سخت نادان اور جاہل اور علوم دینیہ سے بیخبر ہے۔ تب میں جناب انہی میں رویا کہ میری مدد کر تو اس دعا کے بعد الہام ہوا کہ ادعونی استجب لکم یعنے دعا کرو کہ میں قبول کروں گا مگر میں بالطبع نا فر تھا کہ کسی کے عذاب کیلئے دعا کروں آج جو ۲۹ شعبان ۱۳۱۰ھ ہے اس مضمون کے لکھنے کے وقت خدا تعالیٰ نے دعا کیلئے دل کھول دیا ۔ سو میں نے اس وقت اسی طرح سے رفت دل سے اس مقابلہ میں فتح پانے کیلئے دعا کی اور میرا دل کھل گیا اور میں جانتا ہوں کہ قبول ہو گئی۔ اور میں جانتا ہوں کہ وہ الہام جو مجھ کو میاں بٹالوی کی نسبت ہوا تھا که انی مهین من اراد اهانتک وہ اسی موقع کیلئے ہوا تھا۔ میں نے اس مقابلہ کیلئے چالیس دن کا عرصہ ٹھہرا کر دعا کی ہے اور وہی عرصہ میری زبان پر جاری ہوا۔ اب صاحبواگر میں اس نشان میں جھوٹا نکلا یا میدان سے بھاگ گیا۔ یا کچے بہانوں سے ٹال دیا تو تم سارے گواہ رہو کہ بیشک میں کذاب اور دجال ہوں۔ تب میں ہر یک سزا کے لائق ٹھہروں گا۔ کیونکہ اس موقعہ پر ہر یک پہلو سے میرا کذب ثابت ہو جائے گا اور دعا کا نا منظور ہونا کھل کر میرے الہام کا باطل ہونا بھی ہر یک پر ہویدا ہو جائے گا۔ لیکن اگر میاں بٹالوی مغلوب ہو گئے تو ان کی ذلت اور روسیاہی اور جہالت اور نادانی روز روشن کی طرح ظاہر ہو جائے گی۔ اب اگر وہ اس کھلے کھلے فیصلہ کو منظور نہ کریں اور بھاگ جائیں اور خطا کا اقرار بھی نہ کریں تو یقیناً سمجھو کہ ان کیلئے خدا تعالیٰ کی عدالت سے مندرجہ ذیل انعام ہے: ، اگر اس کا جواب یکم اپریل سے دو ہفتہ کے اندر نہ آیا تو آپ کی گریز بھی جائے گی۔ (مطبوعه ریاض هند (قادیان تلک عشرة کاملة المشتهر میرزا غلام احمد قادیانی (۳۰ مارچ ۱۸۹۳ء) نوٹ اگر میاں بٹا ور قسم کا نشان چاہیں تو پھر اسی کے بارے میں دعا کی جائیگی مگر پہلے اشتہارات کے ذریعہ سے شائع کر دیں کہ میں اس مقابلہ سے عاجز اور قاصر ہوں۔