آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 605 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 605

۶۰۳ آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ اور با این ہمہ اصل تعلیم قرآنی سے مخالف نہ ہوں بلکہ ان کی قوت اور شوکت ظاہر کرنے والے ہوں ۔ اور کتاب کے آخر (۲۰۳) میں سو شعر لطیف بلیغ اور فصیح عربی میں نعت اور مدح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں بطور قصید و درج ہوں اور جس بحر میں وہ شعر ہونے چاہئیں وہ بھر بھی بطور قرعہ اندازی کے اسی جلسہ میں تجویز کیا جائے اور فریقین کو اس کام کیلئے چالیس دن کی مہلت دی جائے۔ اور چالیس دن کے بعد جلسہ عام میں فریقین اپنی اپنی تفسیر اور اپنے اپنے اشعار جوعربی میں ہوں گے سنادیں۔ پھر اگر یہ عاجز شیخ محمد حسین بٹالوی سے حقائق و معارف کے بیان کرنے اور عبارت عربی فصیح و بلیغ اور اشعار آبدار مدحیہ کے لکھنے میں قاصراور کم درجہ پر ہا۔ یایہ کہ شی محمد حسین اس عاجز سے برابر رہاتو اس وقت یہ عاجز اپنی خطا کا اقرار کرے گا اور اپنی کتابیں جلا دے گا اور شیخ حمد حسین کا حق ہوگا کہ اس وقت اس عاجز کے گلے میں رسہ ڈال کر یہ کہے کہ اے کذاب۔اے دجال۔ اے مفتری آج تیری رسوائی ظاہر ہوئی۔ اب کہاں ہے وہ جس کو تو کہتا تھا کہ میرا مددگار ہے۔ اب تیرا الہام کہاں ہے اور تیرے خوارق کدھر چھپ گئے لیکن اگر یہ عاجز غالب ہوا تو پھر چاہیے کہ میاں محمد حسین اسی مجلس میں کھڑے ہو کر ان الفاظ سے تو بہ کرے کہ اے حاضرین آج میری روسیاہی ایسی کھل گئی کہ جیسے آفتاب کے نکلنے سے دن کھل جاتا ہے اور اب ثابت ہوا کہ یہ شخص حق پر ہے اور میں ہی دجال تھا اور میں ہی کذاب تھا اور میں ہی کا فر تھا اور میں ہی بے دین تھا اور اب میں تو بہ کرتا ہوں۔ سب گواور ہیں۔ بعد اس کے اسی مجلس میں اپنی کتا بیں جلادے اور ادنی خادموں کی طرح پیچھے ہوئے ۔ صاحبو۔ یہ طریق فیصلہ ہے جو اس وقت میں نے ظاہر کیا ہے۔ میاں محمد حسین کو اس پر سخت اصرار ہے کہ یہ عاجز عربی علوم سے بالکل بے بہرو اور کو دن اور نا دان اور جاہل ہے اور علم قرآن سے بالکل بے خبر ہے اور خدا تعالی سے مدد پانے کے تو لائق ہی نہیں کیونکہ کذاب اور دجال ہے اور ساتھ اس کے ان کو اپنے کمال علم اور فضل کا بھی دعوتی ہے۔ کیونکہ ان کے نزدیک حضرت مخدوم مولوی حکیم نورالدین صاحب جو اس عاجز کی نظر میں علامہ عصر اور جامع علوم ہیں۔ صرف ایک حکیم ۔ اور اخویم مکرم مولوی سید محمد احسن صاحب جو گویا علم حدیث کے ایک پتلے ہیں صرف ایک منشی ہیں۔ پھر با وجود ان کے اس دھوئی کے اور میرے اس ناقص حال کے جس کو وہ بار بار شائع کر چکے ہیں۔ اس طریق فیصلہ میں کون سا اشتباہ باقی ہے۔ اور اگر وہ اس مقابلہ کے لائق نہیں۔ اور اپنی نسبت بھی جھوٹ بولا ہے اگر کسی کے دل میں یہ خدشہ گزرے کہ ایسے جدید حقائق و معارف جو پہلی تفاسیر میں نہ ہوں وہ کیونکر تسلیم کئے جاسکتے ہیں اور وہ انہیں پہلی ہی تفاسیر میں محدود کرے تو اسے مناسب ہے کہ عبارت ذیل کو ملاحظہ کرے۔ ثم رأيت كل آية و كل حديث بحرًا مؤاجًا فيه من اسرار ما لو كتب شرح سر واحد منها في مجلدات لما احاطته و رئيت الاسرار الخفية متبذلة في اشارات القرآن والسنة فقضيت العجب كل العجب فيوض الحرمين-صفر ام شیخ بٹالوی کو اختیار ہو گا کہ میاں شیخ الکل اور دوسرے تمام متکبر ملاؤں کو ساتھ ملالے۔ منہ دیکھو ان کا فتوی نمبر ۴ جلد ۳ صفحه ۱۱۵