آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 601 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 601

روحانی خزائن جلد۵ ۵۹۹ آئینہ کمالات اسلام زندوں میں سے کاٹ ڈال۔ لیکن اگر میں تیری طرف سے ہوں اور تیرا ہی ہوں تو میری مدد کر ۔ ۵۹۹ جیسا کہ تو ان کی مدد کرتا ہے جو تیری طرف سے آتے ہیں۔ بالآخر میں اس بات کے لکھنے سے بھی نہیں رہ سکتا کہ بٹالوی صاحب کا رئیس المتکبرین ہونا صرف میرا ہی خیال نہیں بلکہ ایک گروہ کثیر مسلمانوں کا اس پر شہادت دے رہا ہے۔ اور ساتھ ہی لوگ اس بات سے بھی حیران ہیں کہ یہ تکبر کس وجہ سے اور کس بنا پر ہے۔ مثلا شیطان نے جو تکبر کیا تو اس کی یہ بنا تھی جو وہ اپنے تئیں نجیب الخلقت سمجھتا تھا اور خَلَقْتَنِي مِنْ نَّارٍے کا دم مار کر حضرت صفی اللہ پر خَلَقْتَهُ مِنْ طِيْنِ " کی نکتہ چینی کرتا تھا۔ پس اگر حضرت بٹالوی صاحب اوروں کی نسبت اپنے تئیں ایک خاص طور سے نجیب الطرفین خیال کرتے ہیں تو اس کا کوئی ثبوت دینا چاہیے اور کوئی ایک آدھ شہادت پیش کرنی چاہیے اور اگر تکبر کی بنا کسی نوع کا علم ہے جو میاں شیخ الکل یا کسی اور سے حاصل کیا ہے تو اس کا بھی ثبوت چاہیے کیونکہ اب تک ہمیں اس بات کا علم نہیں کہ کونسا علم ان کو حاصل ہے۔ آیا طبیب ہیں یا فلاسفر ہیں یا بہیت دان ہیں یا منطقی یا ادیب ۔ یا حقائق اور معارف قرآن میں سب سے بڑھے ہوئے ہیں یا امام بخاری کی طرح کئی لاکھ حدیث نوک زبان ہے۔ اور اگر ان باتوں میں سے کوئی بات بھی نہیں تو پھر بجز شیطانی تکبر کے اور کیا ان کی نسبت ثابت ہو سکتا ہے۔ اب یادر ہے کہ تکبر کو جھوٹ لازم پڑا ہوا ہے بلکہ نہایت پلید جھوٹ وہ ہے جو تکبر کے ساتھ مل کر ظاہر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ جل شانہ متکبر کا سب سے پہلے سر توڑتا ہے سو اسی طرح اب بھی توڑے گا۔ یہ تو ثابت ہو چکا ہے کہ میاں بٹالوی کا یہ شیوہ ہے کہ اپنا تو خاص طور پر مولوی نام رکھا ہے اور دوسروں کا نام جاہل۔ احمق ان پڑھ اور جس پر بڑی مہربانی ہوئی اس کو منشی کر کے پکارا ہے۔ اور ہماری جماعت کا نام جہلاء اور سفہاء کی جماعت نام رکھا ہے۔ اب میاں بٹالوی بتلادیں کہ انہوں نے اپنے تئیں مولوی قراردینے اور دوسروں کا نام جاہل اور ان پڑھ رکھنے میں سچ بولا ہے یا جھوٹ ۔ میں بیچ بیچ کہتا ہوں کہ میں دیکھتا ہوں کہ میاں بٹالوی کی جڑوں میں جھوٹ رچا ہوا ہے اور تکبر کی پلید سرشت نے اور بھی اس جھوٹ کوزہریلا مادہ بنا دیا ہے چونکہ شیطانی نخوت نے اپنا پورا پورا بو جھان پر ڈال دیا ہے اس لئے ایک زور کے ساتھ دروغ گوئی کی نجاست ان کے منہ سے بد رہی ہے۔ پھر اس کے ساتھ وقاحت یہ کہ دوسروں کا نام دروغ گو ر کھتے ہیں۔ میں یہ حالفا کہہ سکتا ہوں کہ اگر میرے مکرم و مخدوم دوست مولوی حکیم نورالدین صاحب بارک الله تعالى في مجده و علمه و بقائه لاول الاعراف :١٣