آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 356 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 356

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۵۶ آئینہ کمالات اسلام ۳۵۲ کہ میرے قرب و جوار کا اثر آپ پر پڑے اور اگرچہ میں عہد کے طور پر نہیں کہہ سکتا مگر میرا دل شہادت دیتا ہے کہ کچھ ظاہر ہوگا جو آپ کو کھینچ کر یقین کی طرف لے جائے گا اور میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ کچھ ہونے والا ہے مگر ابھی خدا تعالیٰ اپنی سنت قدیمہ سے دو گروہ بنانے چاہتا ہے۔ ایک وہ گروہ جو نیک ظنی کی برکت سے میری طرف آتے جاتے ہیں دوسرے وہ گروہ جو بدظنی کی شامت سے مجھ سے دور پڑتے جاتے ہیں۔ اور میں نے آپ کے اس بیان کو افسوس کے ساتھ پڑھا جو آپ فرماتے ہیں کہ مجرد قیل و قال سے فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ میں آپ کو از راہ تو دد و مہربانی و رحم اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اکثر فیصلے دنیا میں قیل و قال سے ہی ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ صرف باتوں کے ثبوت یا عدم ثبوت کے لحاظ سے ایک شخص کو عدالت نہایت اطمینان کے ساتھ پھانسی دے سکتی ہے اور ایک شخص کو تہمت خون سے بری کر سکتی ہے۔ واقعات کے ثبوت یا عدم ثبوت پر تمام مقدمات فیصلہ پاتے ہیں کسی فریق سے یہ سوال نہیں ہوتا کہ کوئی آسمانی نشان دکھلاوے تب ڈگری ہو گی یا فقط اس صورت میں مقدمہ ڈسمس ہوگا کہ جب مدعا علیہ سے کوئی کرامت ظہور میں آوے۔ بلکہ اگر کوئی مدعی بجائے واقعات کے ثابت کرنے کے ایک سوئی کا سانپ بنا کر دکھلا دیوے یا ایک کاغذ کا کبوتر بنا کر عدالت میں اڑا دے تو کوئی حاکم صرف ان وجوہات کے رو سے اس کو ڈگری نہیں دے سکتا جب تک باقاعدہ صحت دعولی ثابت نہ ہو اور واقعات پر کھے نہ جائیں ۔ پس جس حالت میں واقعات کا پرکھنا ضروری ہے اور میرا یہ بیان ہے کہ میرے تمام دعاوی قرآن کریم اور احادیث نبویہ اور اولیاء گذشتہ کی پیشگوئیوں سے ثابت ہیں اور جو کچھ میرے مخالف تاویلات سے اصل مسیح کو دوبارہ دنیا میں نازل کرنا چاہتے ہیں نہ صرف عدم ثبوت کا داغ ان پر ہے بلکہ یہ خیال محال بہ بداہت قرآن کریم کی نصوص بینہ سے مخالف پڑا ہوا ہے اور اس کے : ، اور اس کے ہریک پہلو میں اس قدر مفاسد ہیں اور اس قدر خرابیاں ہیں کہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص ان سب کو اپنی نظر کے سامنے رکھ کر پھر اس کو بدیہی البطلان نہ کہہ سکے تو پھر ان حقائق اور معارف اور دلائل اور براہین کو کیونکر فضول قیل و قال کہہ سکتے ہیں قرآن کریم بھی تو بظاہر قیل و قال ہی ہے جو عظیم الشان معجزہ اور تمام معجزات سے بڑھ کر ہے معقولی ثبوت تو اول درجہ پر ضروری ہوتے ہیں بغیر اس کے نشان پیچ ہیں۔ یاد رہے کہ جن ثبوتوں پر مدعا علیہ کو عدالتوں میں سزائے موت دی جاتی ہے وہ ثبوت ان ثبوتوں سے کچھ بڑھ کر نہیں ہیں جو قرآن اور حدیث اور اقوال اکابر