آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 355 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 355

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۵۵ آئینہ کمالات اسلام اور تقویٰ رکھتا ہو اور اس کو کہہ دیں کہ جب کوئی خواب دیکھے لکھ کر دکھلاوے اور آپ بھی لکھ کر (۳۵۵ دکھلا دیں ۔ تب امید ہے کہ اگر بچی خواب آئے گی تو اُس کے کئی اجزا آپ کی خواب میں اور اس رفیق کی خواب میں مشترک ہوں گے اور ایسا اشتراک ہوگا کہ آپ تعجب کریں گے افسوس کہ اگر میرے روبرو آپ ایسا ارادہ کر سکتے تو میں غالب امید رکھتا تھا کہ کچھا عجوبہ قدرت ظاہر ہوتا میری حالت ایک عجیب حالت ہے بعض دن ایسے گزرتے ہیں کہ الہامات الہی بارش کی طرح برستے ہیں اور بعض پیشگوئیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ایک منٹ کے اندر ہی پوری ہو جاتی ہیں اور بعض مدت دراز کے بعد پوری ہوتی ہیں صحبت میں رہنے والا محروم نہیں رہ سکتا کچھ نہ کچھ تائید الہی دیکھ لیتا ہے جو اس کی باریک بین نظر کیلئے کافی ہوتی ہے۔ اب میں متواتر دیکھتا ہوں کہ کوئی امر ہونے والا ہے۔ میں قطعاً نہیں کہہ سکتا کہ وہ جلد یا دیر سے ہو گا مگر آسمان پر کچھ طیاری ہو رہی ہے تا خدائے تعالیٰ بدظنوں کو ملزم اور رسوا کرے۔ کوئی دن یا رات کم گذرتی ہے جو مجھ کو اطمینان نہیں دیا جاتا۔ یہی خط لکھتے لکھتے یہ الہام ہوا۔ یجیء الحق و يكشف الصدق و يخسر الخاسرون۔ يأتي قمر الانبياء و امرك يتأتي۔ ان ربک فعّال لما يريد - یعنی حق ظاہر ہوگا اور صدق کھل جائے گا اور جنہوں نے بدظنیوں سے زیان اٹھایا وہ ذلت اور رسوائی کا زیان بھی اٹھائیں گے۔ نبیوں کا چاند آئے گا اور تیرا کام ظاہر ہو جائے گا۔ تیرا رب جو چاہتا ہے کرتا ہے مگر میں نہیں جانتا کہ یہ کب ہوگا اور جو شخص جلدی کرتا ہے خدائے تعالیٰ کو اس کی ایک زرہ بھی پرواہ نہیں وہ غنی ہے دوسرے کا محتاج نہیں۔ اپنے کاموں کو حکمت اور مصلحت سے کرتا ہے اور ہر ایک شخص کی آزمائش کر کے پیچھے سے اپنی تائید دکھلاتا ہے اگر پہلے سے نشان ظاہر ہوتے تو صحابہ کبار اور اہل بیت کے ایمان اور دوسرے لوگوں کے ایمانوں میں فرق کیا ہوتا۔ خدائے تعالیٰ اپنے عزیزوں اور پیاروں کی عزت ظاہر کرنے کیلئے نشان دکھلانے میں کچھ تو قف ڈال دیتا ہے تا لوگوں پر ظاہر ہو کہ خدائے تعالیٰ کے خاص بندے نشانوں کے محتاج نہیں ہوتے اور تا ان کی فراست اور دور بینی سب پر ظاہر ہو جائے اور ان کے مرتبہ عالیہ میں کسی کو کلام نہ ہو۔ حضرت مسیح علیہ السلام سے بہتر ہے آدمی اوائل میں اس بد خیال سے پھر گئے اور مرتد ہو گئے کہ آپ نے ان کو کوئی نشان نہیں دکھلایا ان میں سے بارہ قائم رہے اور بارہ میں سے پھر ایک مرتد ہو گیا اور جو قائم رہے انہوں نے آخر میں بہت سے نشان دیکھے اور عند اللہ صادق شمار ہوئے۔ مکرر میں آپ کو کہتا ہوں کہ اگر آپ چالیس روز تک میری صحبت میں آجائیں تو مجھے یقین ہے