آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 351 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 351

روحانی خزائن جلد ۵ ۳۵۱ آئینہ کمالات اسلام مائندہ اترے تا بعض شبہات ہمارے جو آپ کی نسبت ہیں دور ہو جائیں۔ پس اللہ جل شانۂ قرآن کریم ۳۵۱ میں حکایتا حضرت عیسی کو فرماتا ہے کہ ان کو کہدے کہ میں اس نشان کو ظاہر کروں گا لیکن پھر اگر کوئی شخص مجھ کو ایسا نہیں مانے گا کہ جو حق مانے کا ہے تو میں اس پر وہ عذاب نازل کروں گا جو آج تک کسی پر نہیں کیا ہو گا تب حواری اس بات کو سن کر نشان مانگنے سے تائب ہو گئے ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس قوم پر ہم نے عذاب نازل کیا ہے نشان دکھلانے کے بعد کیا ہے اور قرآن کریم میں کئی جگہ فرماتا ہے کہ نشان نازل ہونا عذاب نازل ہونے کی تمہید ہے وجہ یہ کہ جوشخص نشان مانگتا ہے اس پر فرض ہو جاتا ہے کہ نشان دیکھنے کے بعد یکلخت جب دنیا سے دست بردار ہو جائے اور فقیرانہ دلق پہن لے اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور ہیبت دیکھ کر اس کا حق ادا کرے لیکن چونکہ غافل انسان اس درجہ کی فرمانبرداری کر نہیں سکتا اس لئے شرطی طور پر نشان دیکھنا اس کے حق میں وبال ہو جاتا ہے کیونکہ نشان کے بعد خدائے تعالیٰ کی حجت اس پر پوری ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر پھر بھی کامل اطاعت کے بجالانے میں کچھ کسر رکھے تو غضب الہی اس پر مستولی ہوتا ہے اور اس کو نابود کر دیتا ہے۔ تیسرا سوال آپ کا استخارہ کے لئے ہے جو درحقیقت استخبارہ ہے ۔ پس آپ پر واضح ہو کہ جو مشکلات آپ نے تحریر فرمائی ہیں در حقیقت استخارہ میں ایسی مشکلات نہیں ہیں میری مراد میری تحریر میں صرف اس قدر ہے کہ استخارہ ایسی حالت میں ہو کہ جب جذبات محبت اور جذبات عداوت کسی تحریک کی وجہ سے جوش میں نہ ہوں ۔ مثلاً ایک شخص کسی شخص سے عداوت رکھتا ہے اور غصہ اور عداوت کے اشتعال میں سو گیا ہے۔ تب وہ شخص جو اس کا دشمن ہے اس کو خواب میں کئے یا سور کی چکل میں نظر آیا ہے یا کسی اور درندہ کی شکل میں دکھائی دیا ہے تو وہ خیال کرتا ہے کہ شاید در حقیقت یہ شخص عند اللہ کتا یا سور ہی ہے لیکن یہ خیال اس کا غلط ہے کیونکہ جوش عداوت میں جب دشمن خواب میں نظر آوے تو اکثر درندوں کی شکل میں یا سانپ کی شکل میں نظر آتا ہے اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ در حقیقت وہ بد آدمی ہے کہ جو ایسی شکل میں ظاہر ہوا ایک غلطی ہے۔ بلکہ چونکہ دیکھنے والے کی طبیعت اور خیال میں وہ درندوں کی طرح تھا اس لئے خواب میں درندہ ہو کر اس کو دکھائی دیا۔ سو میرا مطلب یہ ہے کہ خواب دیکھنے والا جذبات نفس سے خالی ہو اور ایک آرام یافتہ اور سراسر رو بحق دل سے محض اظہار حق کی غرض سے استخارہ کرے۔ میں یہ عہد نہیں کر سکتا کہ ہر یک شخص کو ہر یک حالت نیک یا بد میں ضرور خواب آ جائے گی لیکن آپ کی نسبت میں کہتا ہوں کہ اگر آپ چالیس روز تک رو بحق ہو کر بشرائط