آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 341
روحانی خزائن جلد ۵ ۳۴۱ آئینہ کمالات اسلام کسی شخص کو پیش نہیں کر سکتے جس نے ایسا دعوی کیا ہو اور یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مسیح موعود ہونے کا ۳۴۱) دعوی مہم من اللہ اور مجدد من اللہ کے دعوئی سے کچھ بڑا نہیں ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ جس کو یہ رتبہ حاصل ہو کہ وہ خدا تعالیٰ کا ہم کلام ہو اس کا نام منجانب اللہ خواہ مثیل مسیح ہو اور خواہ مثیل موسیٰ ہو۔ یہ تمام نام اس کے حق میں جائز ہیں۔ مثیل ہونے میں کوئی اصلی فضیلت نہیں اصلی اور حقیقی فضیلت ملہم من اللہ اور کلیم اللہ ہونے میں ہے۔ پھر جس شخص کو مکالمہ الہیہ کی فضیلت حاصل ہو گئی اور کسی خدمت دین کیلئے مامور من اللہ ہو گیا تو اللہ جل شانہ وقت کے مناسب حال اس کا کوئی نام رکھ سکتا ہے۔ یہ نام رکھنا تو کوئی بڑی بات نہیں۔ اسلام میں موسیٰ ، عیسی، داود، سلیمان، یعقوب وغیرہ بہت سے نام نبیوں کے نام پر لوگ رکھ لیتے ہیں اس تفاول کی نیت سے کہ ان کے اخلاق انہیں حاصل ہو جائیں پھر اگر خدا تعالیٰ کسی کو اپنے مکالمہ کا شرف دیگر کسی موجودہ مصلحت کے موافق اس کا کوئی نام بھی رکھ دے تو اس میں کیا استبعاد ہے؟ اور اس زمانہ کے مجدد کا نام مسیح موعود رکھنا اس مصلحت پر مبنی معلوم ہوتا ہے کہ اس مجدد کا عظیم الشان کام عیسائیت کا غلبہ توڑنا اور ان کے حملوں کو دفع کرنا اور ان کے فلسفہ کو جو مخالف قرآن ہے دلائل قویہ کے ساتھ توڑنا اور ان پر اسلام کی حجت پوری کرنا ہے کیونکہ سب سے بڑی آفت اس زمانہ میں اسلام کیلئے جو بغیر تائید الہی دور نہیں ہو سکتی عیسائیوں کے فلسفیانہ حملے اور مذہبی نکتہ چینیاں ہیں جن کے دور کرنے کیلئے ضرور تھا کہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے کوئی آوے اور جیسا کہ میرے پر کشفاً کھولا گیا ہے۔ حضرت مسیح کی روح ان افتراؤں کی وجہ سے جوان پر اس زمانہ میں کئے گئے اپنے مثالی نزول کیلئے شدت جوش میں تھی اور خدا تعالیٰ سے درخواست کرتی تھی کہ اس وقت مثالی طور پر اس کا نزول ہو۔ سو خدائے تعالیٰ نے اس کے جوش کے موافق اس کی مثال کو دنیا میں بھیجاتا وہ وعدہ پورا ہو جو پہلے سے کیا گیا تھا۔ یہ ایک سر اسرار الہیہ میں سے ہے کہ جب کسی رسول یا نبی کی شریعت اس کے فوت ہونے کے بعد بگڑ جاتی ہے اور اس کی اصل تعلیموں اور ہدایتوں کو بدلا کر بے ہودہ اور بیج با تیں اس کی طرف منسوب کی جاتی ہیں اور ناحق کا جھوٹ افتراء کر کے یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ وہ تمام کفر اور بدکاری کی باتیں اس نبی نے ہی سکھلائی تھیں تو اس نبی کے دل میں ان فسادوں اور تہمتوں کے دور کرنے کیلئے ایک اشد توجہ اور اعلیٰ درجہ کا جوش پیدا ہو جاتا ہے۔ تب اس نبی کی روحانیت تقاضا کرتی ہے کہ کوئی قائم مقام اس کازمین پر پیدا ہو۔